کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جبرئیل علیہ السلام نبی ﷺ کے پاس ایک سفید
حدیث نمبر: 461
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْأَزْهَرِ مُعَاوِيَةُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ: أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: أُتِيَ جِبْرَئِيلُ بِمِرْآةٍ بَيْضَاءَ فِيهَا وَكْتَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا هَذَا؟" قَالَ: هَذِهِ الْجُمُعَةُ فُضِّلْتَ بِهَا أَنْتَ وَأُمَّتَكَ، فَالنَّاسُ لَكُمْ فِيهَا تَبَعٌ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى، وَلَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ، وَفِيهَا سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا مُؤْمِنٌ يَدْعُو اللَّهَ بِخَيْرٍ إِلَّا اسْتُجِيبَ لَهُ وَهُوَ عِنْدَنَا يَوْمُ الْمَزِيدِ. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَاجِبْرَئِيلُ مَا يَوْمُ الْمَزِيدِ؟" قَالَ: إِنَّ رَبَّكَ اتَّخَذَ فِي الْفِرْدَوْسِ وَادِيًا أَفْيَحَ فِيهِ كُثُبُ مِسْكٍ فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ أَنْزَلَ اللَّهُ مَا شَاءَ مِنْ مَلَائِكَتِهِ وَحَوْلَهُ مَنَابِرُ مِنْ نُورٍ عَلَيْهَا مَقَاعِدُ لِلنَّبِيِّينَ وَحَفَّ تِلْكَ الْمَنَابِرَ بِمَنَابِرَ مِنْ ذَهَبٍ مُكَلَّلَةٍ بِالْيَاقُوتِ وَالزَّبَرْجَدِ، عَلَيْهَا الشُّهَدَاءُ وَالصِّدِّيقُونَ فَجَلَسُوا مِنْ وَرَائِهِمْ عَلَى تِلْكَ الْكُثُبِ، فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُمْ: أَنَا رَبُّكُمْ قَدْ صَدَقْتُكُمْ وَعْدِي فَسَلُونِي أُعْطِكُمْ فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا نَسْأَلُكَ [ ص: 35 ] رِضْوَانَكَ، فَيَقُولُ: قَدْ رَضِيتُ عَنْكُمْ، وَلَكُمْ عَلَى مَا تَمَنَّيْتُمْ وَلَدَيَّ مَزِيدٌ فَهُمْ يُحِبُّونَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِمَا يُعْطِيهِمْ فِيهِ رَبُّهُمْ مِنَ الْخَيْرِ، وَهُوَ الْيَوْمُ الَّذِي اسْتَوَى رَبُّكُمْ عَلَى الْعَرْشِ فِيهِ، وَفِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ.
حافظ محمد فہد
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جبرئیل علیہ السلام نبی ﷺ کے پاس ایک سفید شیشہ لے کر آئے جس میں ایک نقطہ برابر جگہ نمودار تھی۔ نبی ﷺ نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ تو جبریل علیہ السلام نے کہا: ”یہ جمعہ ہے جس کے ذریعے آپ ﷺ کو اور آپ ﷺ کی امت کو فضیلت سے نوازا گیا ہے۔ اور لوگ یہود و نصاریٰ اس میں تمہارے پیچھے ہیں۔ اور تمہارے لیے اس میں بھلائی ہے۔ اس جمعہ کے دن میں ایک گھڑی ایسی ہے جس میں مومن بندہ جو بھی دعائے خیر کرتا ہے وہ قبول ہوتی ہے۔ اور یہ دن ہمارے ہاں یوم المزيد ہے۔“ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اے جبریل! یہ یوم المزيد کیا ہے؟“ جبریل علیہ السلام نے کہا: ”آپ کے رب نے جنت میں ایک وسیع وادی بنائی ہے جس میں کستوری کے ٹیلے ہیں، جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ جتنے فرشتوں کو چاہتے ہیں نیچے اتارتے ہیں۔ اور اس وادی کے اردگرد نور کے منبر ہیں جن پر انبیاء علیہم السلام کے لیے نشستیں ہیں۔ ان منبروں کو سونے کے منبروں نے، جو یاقوت اور زبرجد سے مزین کیے گئے ہیں، ڈھانپا ہوا ہے۔ ان ٹیلوں کے پیچھے ان پر شہید اور صدیقین بیٹھے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائیں گے: میں تمہارا رب ہوں اور میں نے تم سے کیا وعدہ سچ کر دکھایا ہے، اب مجھ سے مانگو میں تمہیں عطا کروں گا۔ تو وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم تیری رضا کا سوال کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: میں تم سے راضی ہو گیا، اور تمہارے لیے وہ ہے جس کی تم خواہش کرو، اور میری طرف سے اور بھی بہت کچھ ، تو وہ جمعہ کے دن کو اپنے رب کی طرف سے ملنے والی خیر کی وجہ سے پسند کریں گے۔ اور یہ وہ دن ہے جس میں تمہارا رب عرش پر مستوی ہوا، اور اسی میں آدم علیہ السلام کو پیدا کیا، اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔“