کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: ثعلبہ بن ابی مالک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ امام کا خطبہ کے لیے بیٹھ جانا،
حدیث نمبر: 426
أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: حَدَّثَنِي ثَعْلَبَةُ ابْنُ أَبِي مَالِكٍ: أَنَّ قُعُودَ الْإِمَامِ يَقْطَعُ السُّبْحَةَ، وَأَنَّ كَلَامَهُ يَقْطَعُ الْكَلَامَ، وَأَنَّهُمْ كَانُوا [ ص: 18 ] يَتَحَدَّثُونَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَعُمَرُ جَالِسٌ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ قَامَ عُمَرُ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ حَتَّى يَقْضِيَ الْخُطْبَتَيْنِ كِلْتَيْهِمَا، وَإِذَا قَامَتِ الصَّلَاةُ وَنَزَلَ عُمَرُ تَكَلَّمُوا. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ إِيجَابِ الْجُمُعَةِ.
حافظ محمد فہد
ثعلبہ بن ابی مالک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ امام کا خطبہ کے لیے بیٹھ جانا، نماز ختم کر دیتا ہے اور امام کا خطبہ بات چیت سے روک دیتا ہے، اور وہ لوگ جمعہ کے دن باتیں کرتے جبکہ عمر رضی اللہ عنہ منبر پر تشریف فرما ہوتے۔ جب مؤذن اذان سے فارغ ہو جاتا اور عمر رضی اللہ عنہ خطبے کے لیے کھڑے ہو جاتے تو پھر ان میں سے کوئی بھی بات نہ کرتا یہاں تک کہ دونوں خطبے ختم ہو جاتے، اور جب نماز کھڑی ہوتی اور عمر رضی اللہ عنہ منبر سے اترتے تو وہ بات چیت کرتے۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / مسند الإمام الشافعي / حدیث: 426
تخریج حدیث صحیح، اخرجہ البیہقی: 193/3 ۔ وفی المعرفۃ السنن والآثار لہ (1694) ۔ وعبدالرزاق (5352)، وابن ابی شیبۃ (5296)۔