کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: کریب ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے معاویہ
حدیث نمبر: 394
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُتْبَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ رَأَى مُعَاوِيَةَ صَلَّى الْعِشَاءَ، ثُمَّ أَوْتَرَ بِرَكْعَةٍ وَاحِدَةٍ وَلَمْ يَزِدْ عَلَيْهَا، فَأَخْبَرَ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: أَصَابَ، أَيْ بُنَيَّ، لَيْسَ أَحَدٌ مِنَّا أَعْلَمَ مِنْ مُعَاوِيَةَ، هِيَ وَاحِدَةٌ أَوْ خَمْسٌ أَوْ سَبْعٌ، إِلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، الْوِتْرُ مَا شَاءَ.
حافظ محمد فہد
کریب ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا انہوں نے عشاء کی نماز پڑھی، پھر ایک رکعت وتر کے علاوہ کچھ نہ پڑھا۔ کریب رحمہ اللہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بات بیان کی تو انہوں نے فرمایا: ”انہوں نے درست کہا، اے بیٹے! معاویہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر ہم میں سے کوئی اس بارے میں زیادہ نہیں جانتا۔ یہ وتر ایک یا پانچ یا سات سے بھی زیادہ ہیں۔ جتنے چاہے کوئی پڑھے۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / مسند الإمام الشافعي / حدیث: 394
تخریج حدیث اسنادہ ضعیف: فان عتبہ بن محمد مقبول حیث یتابع ولم یتابع اخرجہ البیہقی: 24/3 (4457) ۔ وعبدالرزاق (4641) ۔ ورواہ البخاری من غیر ھذا الطریق، انظر صحیح البخاری، فضائل اصحاب النبی، باب ذکر معاویہ (3764)، (3765)۔