کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تبوک والے
حدیث نمبر: 361
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوكَ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ قَالَ: فَأَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ ثُمَّ دَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا.
حافظ محمد فہد
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تبوک والے سال (سفر میں) نکلے۔ اور رسول اللہ ﷺ ظہر، عصر اور مغرب، عشاء کو جمع کر لیتے۔ فرمایا: ”ایک دن نماز لیٹ کی پھر نکلے اور ظہر، عصر پڑھی۔ پھر آئے اور بعد میں پھر (سفر کو) نکلے تو مغرب اور عشاء اکٹھی پڑھی۔“ [فوائد: 1. دورانِ سفر دو نمازیں جمع کر کے پڑھنا جائز ہے۔ 2. دورانِ سفر نمازوں میں تقدیم و تاخیر یعنی ظہر کو عصر کے وقت میں اور مغرب کو عشاء کے وقت میں یا عصر کو ظہر کے وقت اور عشاء کو مغرب کے وقت میں پڑھنا جائز ہے۔ 3. غزوہ تبوک شام کے عیسائیوں کے خلاف تھا جو مسلمانوں پر حملہ کرنا چاہتے تھے۔ یہ غزوہ رجب 9 ہجری میں ہوا اس میں مسلمانوں کی تعداد تیس ہزار تھی اس کو غزوۃ العسرۃ (تنگی کی جنگ) بھی کہا جاتا ہے۔ 4. معلوم ہوا خلیفہ بذات خود فوج کی کمانڈ کر سکتا ہے۔]
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / مسند الإمام الشافعي / حدیث: 361
تخریج حدیث أخرجه مسلم: صلاة المسافرين، باب الجمع بين الصلاتين في الحضر (706).