کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بنی عمرو بن عوف کے
حدیث نمبر: 319
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ وَحَانَتِ الصَّلَاةُ، فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: أَتُصَلِّي لِلنَّاسِ فَأُقِيمَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ فِي الصَّلَاةِ، فَتَخَلَّصَ حَتَّى وَقَفَ فِي الصَّفِّ، فَصَفَّقَ النَّاسُ، قَالَ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لَا يَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ، فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيقَ، الْتَفَتَ فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنِ امْكُثْ مَكَانَكَ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى عَلَى مَا أَمَرَهُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، وَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: "يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُكَ" ؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا كَانَ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا لِي رَأَيْتُكُمْ أَكْثَرْتُمُ التَّصْفِيقَ؟ فَمَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيُسَبِّحْ، فَإِنَّهُ إِذَا سَبَّحَ الْتُفِتَ إِلَيْهِ، وَإِنَّمَا التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ" . [ ص: 316 ] قَالَ أَبُو الْعَبَّاسِ، يَعْنِي: الْأَصَمَّ. أَخْرَجْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ، وَهُوَ مُعَادٌ إِلَّا أَنَّهُ مُخْتَلِفُ الْأَلْفَاظِ، وَفِيهِ زِيَادَةٌ وَنُقْصَانٌ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الْأَمَالِي، وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ الْإِمَامَةِ.
حافظ محمد فہد
سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بنی عمرو بن عوف کے درمیان صلح کرانے کے لیے تشریف لے گئے۔ اور نماز کا وقت ہو گیا، مؤذن نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے، میں اقامت کہوں؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں، چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نماز شروع کر دی، اتنے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو لوگ نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ ﷺ لوگوں سے گزر کر پہلی صف میں آئے، لوگوں نے تالیاں بجائیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں کسی جانب توجہ نہ دیتے تھے، جب لوگوں نے متواتر تالیاں بجانا شروع کیں تو ابوبکر رضی اللہ عنہ متوجہ ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ نے اشارہ سے انہیں اپنی جگہ رہنے کے لیے کہا (کہ نماز پڑھاؤ)، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ اٹھا کر اللہ کا شکر ادا کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں امامت کا اعزاز بخشا، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹ گئے اور رسول اللہ ﷺ نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اے ابوبکر! جب میں نے آپ کو حکم دیا تھا تو آپ اپنی جگہ پر کھڑے کیوں نہ رہے؟“ ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے کہ ابوقحافہ کے بیٹے کی یہ حیثیت نہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ کے آگے نماز پڑھا سکے، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عجیب بات ہے کہ میں نے دیکھا تم لوگ بکثرت تالیاں بجا رہے ہو؟ جس کو نماز میں کوئی مسئلہ پیش آ جائے وہ سبحان اللہ کہے، کیونکہ جب وہ سبحان اللہ کہے گا تو اس کی طرف توجہ کی جائے گی، اور یہ تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے۔“