کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بنی عمرو بن عوف کے
حدیث نمبر: 317
حَدَّثَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ، وَحَانَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ، فَأَتَى الْمُؤَذِّنُ أَبَا بَكْرٍ فَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ، وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيقَ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لَا يَلْتَفِتُ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيقَ، الْتَفَتَ فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ كَمَا أَنْتَ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ، فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى عَلَى مَا أَمَرَهُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ: "مَا لِي رَأَيْتُكُمْ أَكْثَرْتُمُ التَّصْفِيقَ؟ مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيُسَبِّحْ، فَإِنَّهُ إِذَا سَبَّحَ الْتُفِتَ إِلَيْهِ فَإِنَّمَا التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ" .
حافظ محمد فہد
سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بنی عمرو بن عوف کے پاس صلح کروانے کی غرض سے تشریف لے گئے۔ نماز عصر کا وقت ہو گیا، مؤذن ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ (نماز پڑھانے کے لیے) آگے ہو گئے، رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو لوگوں نے کثرت سے تالیاں بجائیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں کسی جانب متوجہ نہیں ہوتے تھے، جب لوگوں نے کثرت سے تالیاں بجانا شروع کیں تو ابوبکر رضی اللہ عنہ متوجہ ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، رسول اللہ ﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر رہو، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ اٹھا کر اللہ کا شکر ادا کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں امامت کا اعزاز بخشا، پھر وہ پیچھے ہٹ گئے اور نبی ﷺ نے آگے ہو کر نماز پڑھائی، جب نماز پڑھ چکے تو لوگوں سے فرمایا: ”کیا وجہ ہے میں نے دیکھا کہ تم لوگ کثرت سے تالیاں بجا رہے تھے، اگر نماز میں کوئی مسئلہ درپیش آ جائے تو سبحان اللہ کہنا چاہیے۔ جب وہ یہ کہے گا تو اس کی طرف توجہ کی جائے گی اور یہ تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / مسند الإمام الشافعي / حدیث: 317
تخریج حدیث اخرجه البخارى: الأذان، باب من دخل ليؤم الناس فجاء الامام الأول فتأخر الأول اولم يتأخر جازت صلوة: 684 - ومسلم، الصلاة، باب تقديم الجماعة من يصلى بهم اذا تأخر الامام .... الخ: 421