کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: عبید بن عمیر اللیثی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو
حدیث نمبر: 311
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: أَنَّ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيَّ حَدَّثَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ الصُّبْحَ، وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَبَّرَ فَوَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ الْخِفَّةِ فَقَامَ يَفْرِجُ الصُّفُوفَ، قَالَ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لَا يَلْتَفِتُ إِذَا صَلَّى، فَلَمَّا سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ الْحِسَّ مِنْ وَرَائِهِ عَرَفَ أَنَّهُ لَا يَتَقَدَّمُ إِلَى ذَلِكَ الْمَقْعَدِ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَنَسَ وَرَاءَهُ إِلَى الصَّفِّ فَرَدَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَانَهُ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَنْبِهِ، وَأَبُو بَكْرٍ قَائِمٌ، حَتَّى إِذَا فَرَغَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ أَرَاكَ أَصْبَحْتَ صَالِحًا، وَهَذَا يَوْمُ ابْنَةِ خَارِجَةَ. فَرَجَعَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى أَهْلِهِ، فَمَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَانَهُ، وَجَلَسَ إِلَى جَنْبِ الْحُجْرَةِ يُحَذِّرُ النَّاسَ الْفِتَنَ، قَالَ: "إِنِّي وَاللَّهِ لَا يُمْسِكُ النَّاسُ عَلَيَّ بِشَيْءٍ إِلَّا أَنِّي لَا أُحِلُّ إِلَّا مَا أَحَلَّ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ، وَلَا أُحَرِّمُ إِلَّا مَا حَرَّمَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ، يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ، يَا صَفِيَّةُ عَمَّةُ رَسُولِ اللَّهِ، اعْمَلًا لِمَا عِنْدَ اللَّهِ، فَإِنِّي لَا أُغْنِي عَنْكُمَا مِنَ اللَّهِ شَيْئًا" .
حافظ محمد فہد
عبید بن عمیر اللیثی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لوگوں کو صبح کی نماز پڑھانے کا حکم دیا، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی، نبی ﷺ نے کچھ افاقہ محسوس کیا، آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور صفوں سے آگے نکل آئے، عبید کہتے ہیں ابوبکر رضی اللہ عنہ جب نماز پڑھتے تو کسی جانب متوجہ نہیں ہوتے تھے، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے پیچھے کچھ محسوس کیا، اور پہچان لیا کہ اس جگہ پر رسول اللہ ﷺ کے علاوہ اور کوئی نہیں آسکتا، واپس صف کی طرف پیچھے ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں ان کی جگہ لوٹا دیا۔ رسول اللہ ﷺ ان کے پہلو میں بیٹھ گئے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے تھے، حتیٰ کہ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے خیال میں آپ ﷺ تندرست ہو گئے، اور یہ دن خارجہ کی بیٹی کا تھا، ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے گھر آگئے، اور رسول اللہ ﷺ اپنی جگہ پر حجرے کے ایک جانب بیٹھ کر لوگوں کو فتنوں سے ڈراتے رہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں کو نہیں چاہیے کہ ہر بات میں میری طرح عمل کریں کیونکہ میں اس چیز کو حلال کرتا ہوں جس کو اللہ نے اپنی کتاب میں حلال کیا ہے اور اس چیز کو حرام کرتا ہوں جسے اللہ نے اپنی کتاب میں حرام کیا ہے، اے فاطمہ! رسول اللہ ﷺ کی بیٹی، اے صفیہ! رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی، جو کچھ اللہ کے ہاں ہے اس کے لیے عمل کرو، بے شک میں تمہارے واسطے اللہ سے کچھ بھی کفایت نہیں کر سکوں گا۔“