کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: نافع رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ مدینہ کے قریب ایک مسجد میں اقامت کہی گئی، اور
حدیث نمبر: 302
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فِي مَسْجِدٍ بِطَائِفَةِ الْمَدِينَةِ، وَلَابْنِ عُمَرَ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ الْمَسْجِدِ أَرْضٌ يَعْمَلُهَا، وَإِمَامُ ذَلِكَ الْمَسْجِدِ مَوْلًى لَهُ، وَمَسْكَنُ ذَلِكَ الْمَوْلَى وَأَصْحَابِهِ ثَمَّةَ، قَالَ: فَلَمَّا سَمِعَهُمْ عَبْدُ اللَّهِ جَاءَ لِيَشْهَدَ مَعَهُمُ الصَّلَاةَ، فَقَالَ لَهُ الْمَوْلَى صَاحِبُ الْمَسْجِدِ: تَقَدَّمْ فَصَلِّ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَنْتَ أَحَقُّ أَنْ تُصَلِّيَ فِي مَسْجِدِكَ مِنِّي، فَصَلَّى الْمَوْلَى. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الْإِمَامَةِ.
حافظ محمد فہد
نافع رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ مدینہ کے قریب ایک مسجد میں اقامت کہی گئی، اور ابن عمر رضی اللہ عنہ کی اس مسجد کے قریب زمین تھی جس میں وہ کھیتی باڑی کرتے تھے، اور اس مسجد کا امام ابن عمر رضی اللہ عنہ کا آزاد کردہ غلام تھا، اس آزاد کردہ غلام اور اس کے ساتھیوں کی رہائش وہاں تھی۔ نافع کہتے ہیں جب ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ان (کی اذان و اقامت) کو سنا تو ان کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے آگئے، اس مسجد والے آزاد کردہ غلام نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”آئیں آپ ہمیں نماز پڑھائیں“، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”اپنی مسجد میں تو مجھ سے زیادہ حق دار ہے کہ نماز پڑھائے“، پھر آزاد کردہ غلام نے نماز پڑھائی۔