کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، معاویہ رضی اللہ عنہ نے مدینہ میں نماز
حدیث نمبر: 205
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ [ ص: 260 ] خُثَيْمٍ: أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ: أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: صَلَّى مُعَاوِيَةُ بِالْمَدِينَةِ صَلَاةً جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ بِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ [الْفَاتِحَةِ: 1] لِأُمِّ الْقُرْآنِ، وَلَمْ يَقْرَأْ بِهَا السُّورَةَ الَّتِي بَعْدَهَا حَتَّى قَضَى تِلْكَ الْقِرَاءَةَ، وَلَمْ يُكَبِّرْ حِينَ يَهْوِي حَتَّى قَضَى تِلْكَ الصَّلَاةَ. فَلَمَّا سَلَّمَ نَادَاهُ مَنْ سَمِعَ ذَلِكَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ: يَا مُعَاوِيَةُ، أَسَرَقْتَ الصَّلَاةَ أَمْ نَسِيتَ؟ فَلَمَّا صَلَّى بَعْدَ ذَلِكَ قَرَأَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ [الْفَاتِحَةِ: 1] لِلسُّورَةِ الَّتِي بَعْدَ أُمِّ الْقُرْآنِ وَكَبَّرَ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا.
حافظ محمد فہد
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، معاویہ رضی اللہ عنہ نے مدینہ میں نماز پڑھی، اس میں سورۃ فاتحہ کی قرآت کے ساتھ بلند آواز سے ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ پڑھی، فاتحہ کے بعد والی سورت کے ساتھ (بسم اللہ الرحمن الرحیم بلند آواز سے) نہ پڑھی یہاں تک کہ اس قرآت کو مکمل کر لیا۔ اور جھکتے وقت بلند آواز سے تکبیر نہ کہی یہاں تک کہ نماز مکمل کر لی، جب سلام پھیرا تو مہاجرین میں سے جس نے بھی یہ سنا، ہر طرف سے آواز دی: ”اے معاویہ! کیا آپ نے نماز چرا لی یا بھول گئے؟“ جب اس کے بعد نماز پڑھی تو سورۃ فاتحہ کے بعد والی سورۃ کے ساتھ بھی ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ پڑھی، اور جب سجدے کے لیے جھکے تو تکبیر کہی۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / مسند الإمام الشافعي / حدیث: 205
تخریج حدیث أخرجہ الدارقطنی: 1/331 - والبیہقی فی معرفۃ السنن والآثار: 714 - وصححہ الحاکم: 1/233۔