کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع کرتے، تو
حدیث نمبر: 202
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، وَعَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَحَدُهُمَا: كَانَ إِذَا ابْتَدَأَ الصَّلَاةَ، وَقَالَ الْآخَرُ: كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، قَالَ: وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي للَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ. قَالَ أَحَدُهُمَا: وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، وَقَالَ الْآخَرُ: وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: ثُمَّ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ بِالتَّعَوُّذِ ثُمَّ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فَإِذَا أَتَى عَلَيْهَا قَالَ: آمِينَ، وَيَقُولُ مَنْ خَلْفَهُ، إِنْ كَانَ إِمَامًا يَرْفَعُ صَوْتَهُ حَتَّى يَسْمَعَ مَنْ خَلْفَهُ إِذَا كَانَ مِمَّا يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ الْأَمَالِي.
حافظ محمد فہد
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع کرتے، تو پڑھتے: ”میں نے اپنے چہرے کو اس ذات کی طرف پھیر دیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں، بے شک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے۔ مسلم بن خالد اور عبدالمجید بن عبدالعزیز میں سے ایک نے کہا: اور میں پہلا مسلمان ہوں، جبکہ دوسرے نے کہا: اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر تعوذ (اعوذ باللہ) پڑھ کر قرآن پڑھتے، پھر بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے، جب (سورہ فاتحہ) ختم کرتے تو ”آمین“ کہتے اور آپ کے مقتدی بھی آمین کہتے! اگر امام ہوتے تو جہری نمازوں میں بلند آواز سے قرآت کرتے حتیٰ کہ آپ کے مقتدی بھی آپ کی آواز سنتے۔“