کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں: ”ہم ہجرتِ حبشہ سے پہلے
حدیث نمبر: 190
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ نَأْتِيَ أَرْضَ الْحَبَشَةِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ أَتَيْتُهُ لِأُسَلِّمَ عَلَيْهِ، فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَأَخَذَنِي مَا قَرُبَ وَمَا بَعُدَ، فَجَلَسْتُ حَتَّى إِذَا قَضَى صَلَاتَهُ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ: "إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ثَنَاؤُهُ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا شَاءَ، وَإِنَّ مِمَّا أَحْدَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا تَكَلَّمُوا فِي الصَّلَاةِ" . أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الْأَمَالِي، وَالثَّانِيَ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ.
حافظ محمد فہد
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں: ”ہم ہجرتِ حبشہ سے پہلے نبی ﷺ کو سلام کہتے جبکہ آپ ﷺ نماز میں ہوتے تو آپ ﷺ نماز میں ہمیں جواب دیتے، جب ہم حبشہ سے واپس آئے تو میں آپ ﷺ کے پاس آیا تاکہ آپ ﷺ کو سلام کروں، میں نے آپ ﷺ کو نماز میں پایا، میں نے آپ ﷺ کو سلام کیا لیکن آپ ﷺ نے مجھے جواب نہ دیا، تو مجھ کو نزدیک اور دور گزری ہوئی فکریں آلگیں، میں بیٹھ گیا یہاں تک کہ جب آپ ﷺ نے نماز مکمل کی تو میں آپ ﷺ کے پاس آیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : بے شک اللہ عز وجل کے لیے تعریف ہے، وہ اپنے اوامر میں جو چاہتا ہے نیا حکم دے دیتا ہے، اور جو اللہ نے نیا حکم دیا وہ یہ کہ تم نماز میں بات چیت نہ کرو۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / مسند الإمام الشافعي / حدیث: 190
تخریج حدیث أخرجہ النسائی: السہو، باب الکلام فی الصلوۃ: 1222 - وابو داود، الصلاۃ، باب رد السلام فی الصلاۃ: 924 - وصححہ ابن حبان: 2243، 2244۔