کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: ابوسلمہ فرماتے ہیں معاویہ رضی اللہ عنہ مدینہ تشریف لائے، وہ منبر پر بیٹھے تھے
حدیث نمبر: 160
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، قَالَ: قَدِمَ مُعَاوِيَةُ الْمَدِينَةَ فَبَيْنَا هُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ إِذْ قَالَ: يَا كَثِيرُ بْنَ الصَّلْتِ، اذْهَبْ إِلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فَسَلْهَا عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: فَذَهَبَ مَعَهُ، وَبَعَثَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ مَعَنَا. فَقَالَ: اذْهَبْ وَاسْمَعْ مَا تَقُولُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ. قَالَ: فَجَاءَهَا فَسَأَلَهَا، فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ: لَا عِلْمَ لِي وَلَكِنِ اذْهَبْ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَلْهَا. قَالَ: فَذَهَبْتُ مَعَهُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَصَلَّى عِنْدِي رَكْعَتَيْنِ لَمْ أَكُنْ أَرَاهُ يُصَلِّيهِمَا. فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ صَلَّيْتَ صَلَاةً لَمْ أَكُنْ أَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا. فَقَالَ: "إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، وَإِنَّهُ قَدِمَ عَلَيَّ وَفْدُ بَنِي تَمِيمٍ أَوْ صَدَقَةٌ فَشَغَلُونِي عَنْهُمَا، فَهُمَا هَاتَانِ الرَّكْعَتَانِ" . أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الْعِيدَيْنِ وَالثَّانِيَ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ.
حافظ محمد فہد
ابوسلمہ فرماتے ہیں معاویہ رضی اللہ عنہ مدینہ تشریف لائے، وہ منبر پر بیٹھے تھے جب انہوں نے کہا: ”اے کثیر بن صلت! مومنوں کی ماں عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے پاس جاؤ اور ان سے رسول اللہ ﷺ کی عصر کے بعد والی دو رکعتوں کے بارے میں دریافت کرو!“ ابوسلمہ کہتے ہیں میں بھی کثیر بن صلت کے ہمراہ گیا اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ہمارے ساتھ عبداللہ بن حارث کو بھیجا اور ان سے کہا: ”جاؤ اور سنو! مومنوں کی ماں کیا فرماتی ہیں۔“ انہوں نے آکر عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”مجھے اس سے متعلق علم نہیں ہے، آپ ام سلمہ (رضی اللہ عنہا) کے پاس جا کر ان سے یہ مسئلہ دریافت کرو۔“ ابوسلمہ فرماتے ہیں: میں بھی ان کے ساتھ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، تو انہوں نے فرمایا: ”ایک دن رسول اللہ ﷺ عصر کے بعد میرے گھر تشریف لائے تو آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں جو میں نے آپ ﷺ کو پہلے پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا تھا، میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ نے آج ایسی نماز پڑھی ہے جو اس سے قبل میں نے آپ کو پڑھتے نہیں دیکھا؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں ظہر کے بعد دو رکعتیں پڑھتا ہوں، میرے پاس بنو تمیم کا وفد آیا یا بنو تمیم کا صدقہ، تو انہوں نے مجھے ان رکعات سے مصروف کر دیا، تو یہ وہ (ظہر کے بعد والی) دو رکعتیں ہیں۔“