کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: عبد اللہ الصنابجی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب سورج
حدیث نمبر: 156
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ وَمَعَهَا قَرْنُ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا ارْتَفَعَتْ فَارَقَهَا، فَإِذَا اسْتَوَتْ قَارَنَهَا، فَإِذَا زَالَتْ فَارَقَهَا، فَإِذَا دَنَتْ لِلْغُرُوبِ قَارَنَهَا، فَإِذَا غَرَبَتْ فَارَقَهَا" ، وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي تِلْكَ السَّاعَاتِ.
حافظ محمد فہد
عبد اللہ الصنابجی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کے ساتھ شیطان کے سینگ بھی طلوع ہوتے ہیں، جب وہ بلند ہو جاتا ہے تو شیطان اس سے الگ ہو جاتا ہے۔ جب وہ (آسمان کے) درمیان میں پہنچتا ہے تو شیطان اس سے مل جاتا ہے۔ جب سورج ڈھلتا ہے تو وہ پھر جدا ہو جاتا ہے اور جب غروب کے قریب ہوتا ہے تو وہ پھر مل جاتا ہے اور غروب (آفتاب) کے بعد پھر جدا ہو جاتا ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ نے ان (تین) وقتوں میں نماز پڑھنے سے منع کیا ہے۔“