کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان فرماتے ہیں، ہمیں غزوہ خندق کے
حدیث نمبر: 153
أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: حُبِسْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ بِهَوِيٍّ مِنَ اللَّيْلِ حَتَّى كُفِينَاهُ، وَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا [الْأَحْزَابِ: 25] فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا، فَأَمَرَهُ، فَأَقَامَ الظُّهْرَ فَصَلَاهَا فَأَحْسَنَ صَلَاتَهَا كَمَا كَانَ يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا، ثُمَّ أَقَامَ الْعَصْرَ فَصَلَاهَا كَذَلِكَ، ثُمَّ أَقَامَ الْمَغْرِبَ فَصَلَاهَا كَذَلِكَ ثُمَّ أَقَامَ الْعِشَاءَ فَصَلَاهَا كَذَلِكَ أَيْضًا، قَالَ: وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ: فَرِجَالا أَوْ رُكْبَانًا [الْبَقَرَةِ: 239] . أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ، وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ.
حافظ محمد فہد
ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان فرماتے ہیں، ہمیں غزوہ خندق کے دن نماز سے روک دیا گیا، یہاں تک کہ مغرب کے بعد رات کا ایک حصہ گزر گیا، حتیٰ کہ ہم اس سے کفایت کر دیے گئے اور یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ”اور اللہ لڑائی میں مومنوں کو کافی ہو گیا اور اللہ تعالیٰ قوی اور غالب ہے۔“ [احزاب: 25] نبی ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان کو حکم دیا تو انہوں نے ظہر کے لیے اقامت کہی، آپ ﷺ نے ظہر کی نماز ایسے اچھے طریقے سے پڑھائی جس طرح اس کے وقت پر پڑھ رہے ہوں، پھر (بلال رضی اللہ عنہ نے) عصر کی اقامت کہی اور آپ ﷺ نے وہ نماز بھی اسی طرح (اچھے طریقے سے) پڑھائی۔ پھر مغرب کی اقامت کہی اور اسی طرح نماز پڑھائی۔ پھر عشاء کی اقامت کہی اور یہ بھی اسی طرح (اچھے طریقے سے) پڑھائی اور یہ واقعہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے تھا جو نمازِ خوف کے بارے میں نازل ہوئی کہ ”(اگر تم ڈرو) تو پیدل یا سوار ہو کر۔“ [البقرة: 239]
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / مسند الإمام الشافعي / حدیث: 153
تخریج حدیث أخرجه النسائي، الأذان، باب الأذان للفائت من الصلوة (662) و احمد (3/ 25، 49، 67) و الدارمي (1532) و صححه ابن خزيمة (996) (1703)۔