کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: اصحابِ رسول ﷺ سے ایک آدمی روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے، آخرِ
حدیث نمبر: 152
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، يَعْنِي: ابْنَ دِينَارٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَعَرَّسَ، فَقَالَ: "أَلَا رَجُلٌ صَالِحٌ يَكْلَؤُنَا اللَّيْلَةَ؟ لَا نَرْقُدُ عَنِ الصَّلَاةِ" ، فَقَالَ بِلَالٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَاسْتَنَدَ بِلَالٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ، وَاسْتَقْبَلَ الْفَجْرَ فَلَمْ يَفْزَعُوا إِلَّا بِحَرِّ الشَّمْسِ فِي وُجُوهِهِمْ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَا بِلَالُ" ، فَقَالَ بِلَالُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخَذَ بِنَفْسِي الَّذِي أَخَذَ بِنَفْسِكَ. قَالَ: فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، ثُمَّ اقْتَادُوا شَيْئًا، قَالَ: ثُمَّ صَلَّى الْفَجْرَ.
حافظ محمد فہد
اصحابِ رسول ﷺ سے ایک آدمی روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے، آخرِ شب میں آپ ﷺ نے پڑاؤ ڈالا، اور فرمایا: ”ہے کوئی نیک آدمی جو آج کی رات پہرہ دے؟ تاکہ ہم نماز سے سوئے نہ رہیں۔“ تو بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں (پہرہ دوں گا) اے اللہ کے رسول ﷺ۔ کہتے ہیں بلال رضی اللہ عنہ نے اپنی سواری سے ٹیک لگائی اور مشرق کی طرف منہ کر کے بیٹھ گئے (تاکہ طلوعِ فجر پر اذان کہیں)، سورج کی گرمی چہروں پر پڑنے سے بیدار ہوئے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے بلال!“ تو بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! جس ذات نے آپ کو (بیداری) سے روک لیا اسی نے مجھے بھی روک لیا۔ صحابی کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا اور فجر کی دو سنتیں پڑھیں، پھر تھوڑی دور اونٹوں کو ہانکا اور پھر نمازِ فجر ادا کی۔