کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے
حدیث نمبر: 145
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ أَوِ الْعَتَمَةَ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّيهَا بِقَوْمِهِ فِي بَنِي سَلَمَةَ، قَالَ: فَأَخَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، قَالَ: فَصَلَّى مُعَاذٌ مَعَهُ، ثُمَّ رَجَعَ فَأَمَّ قَوْمَهُ، فَقَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَتَنَحَّى رَجُلٌ مِنْ خَلْفِهِ فَصَلَّى وَحْدَهُ، فَقَالُوا لَهُ: أَنَافَقْتَ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ آتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ أَخَّرْتَ الْعِشَاءَ، وَإِنَّ مُعَاذًا صَلَّى مَعَكَ، ثُمَّ رَجَعَ فَأَمَّنَا، فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ تَأَخَّرْتُ فَصَلَّيْتُ، وَإِنَّمَا نَحْنُ أَصْحَابُ مَوَاضِعَ نَعْمَلُ بِأَيْدِينَا، فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مُعَاذٍ، فَقَالَ: "أَفَتَّانٌ أَنْتَ يَا مُعَاذُ؟ أَفَتَّانٌ أَنْتَ؟ اقْرَأْ بِسُورَةِ كَذَا، وَبِسُورَةِ كَذَا" .
حافظ محمد فہد
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے ساتھ (فرض) نمازِ عشاء پڑھتے، پھر اپنی قوم بنی سلمہ میں وہی نماز پڑھاتے، جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے عشاء کی نماز کو ایک رات لیٹ کر دیا، معاذ رضی اللہ عنہ نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر واپس آکر قوم کی امامت کی، تو سورہ بقرہ کی قرآت شروع کر دی، ایک آدمی ان کے پیچھے سے علیحدہ ہوا اور اس نے اکیلے نماز پڑھ لی، لوگوں نے اسے کہا: کیا تو منافق ہو گیا؟ اس آدمی نے کہا: نہیں، البتہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤں گا، وہ آپ کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے نماز دیر سے پڑھائی، اور معاذ رضی اللہ عنہ نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر واپس جا کر ہم کو امامت کروائی تو سورہ بقرہ شروع کر دی، جب میں نے یہ دیکھا تو علیحدہ ہو کر نماز پڑھ لی، کیونکہ ہم کاشتکار ہیں اور ہاتھ سے کام کرتے ہیں، نبی ﷺ معاذ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اے معاذ! کیا تو آزمائش میں ڈالنے والا ہے؟ کیا تو آزمائش میں ڈالنے والا ہے؟ فلاں فلاں سورہ پڑھا کر۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / مسند الإمام الشافعي / حدیث: 145
تخریج حدیث اخرجه البخاري: الاذان، باب اذا طول الامام وكان للرجل حاجة فخرج وصلی (701) (705) ومسلم، الصلاة، باب القرأة في العشاء (465).