کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: حمنہ بنتِ جحش بیان فرماتی ہیں کہ مجھے استحاضہ کا خون بہت زیادہ آتا تھا، میں نبی
حدیث نمبر: 110
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَمِّهِ عِمْرَانَ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أُمِّهِ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَتْ: كُنْتُ أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَثِيرَةً شَدِيدَةً، فَجِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَفْتِيهِ فَوَجَدْتُهُ فِي بَيْتِ أُخْتِي زَيْنَبَ. فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً، وَإِنَّهُ لَحَدِيثٌ مَا مِنْهُ بُدٌّ، وَإِنَّهُ لَاَسْتَحْيِي مِنْهُ. قَالَ: "فَمَا هُوَ يَا هَنْتَاهْ" ؟ قَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَثِيرَةً شَدِيدَةً، فَمَا تَرَى فِيهَا، فَقَدْ مَنَعَتْنِي الصَّلَاةَ وَالصَّوْمَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنِّي أَنْعَتُ لَكِ الْكُرْسُفَ فَإِنَّهُ يُذْهِبُ الدَّمَ" ، قَالَتْ: هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فَتَلَجَّمِي" . قَالَتْ: هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ: "فَاتَّخِذِي ثَوْبًا" . قَالَتْ: هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ، إِنَّمَا أَثُجُّ ثَجًّا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "سَآمُرُكِ بِأَمْرَيْنِ أَيَّهُمَا فَعَلْتِ أَجْزَأَكِ مِنَ الْآخَرِ، فَإِنْ قَوِيتِ عَلَيْهِمَا، فَأَنْتِ أَعْلَمُ" . قَالَ لَهَا: "إِنَّمَا هِيَ رَكْضَةٌ مِنْ رَكَضَاتِ الشَّيْطَانِ، فَتَحَيَّضِي سِتَّةَ أَيَّامٍ، أَوْ سَبْعَةً فِي عِلْمِ اللَّهِ تَعَالَى، ثُمَّ اغْتَسِلِي حَتَّى إِذَا رَأَيْتِ أَنَّكِ قَدْ طَهُرْتِ وَاسْتَنْقَيْتِ فَصَلِّي أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَأَيَّامَهَا، أَوْ ثَلَاثًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَأَيَّامَهَا، وَصُومِي، فَإِنَّهُ مُجْزِئُكِ، وَكَذَلِكَ افْعَلِي فِي كُلِّ شَهْرٍ كَمَا تَحِيضُ النِّسَاءُ، وَيَطْهُرْنَ مِيقَاتَ حَيْضِهِنَّ وَطُهْرِهِنَّ" .
حافظ محمد فہد
حمنہ بنتِ جحش بیان فرماتی ہیں کہ مجھے استحاضہ کا خون بہت زیادہ آتا تھا، میں نبی ﷺ کی خدمت میں فتویٰ پوچھنے آئی تو آپ ﷺ کو اپنی بہن زینب کے گھر موجود پایا۔ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے آپ سے ایک کام ہے، یہ ایک ایسی بات ہے جو پوچھنی بھی ضرور ہے اور مجھے شرم بھی آتی ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آخر وہ کون سا کام ہے؟“ حمنہ نے کہا: ”مجھے استحاضہ کی سخت شکایت ہے، آپ اس کے متعلق کیا کہتے ہیں؟ اس تکلیف کی وجہ سے میں نماز اور روزہ ادا نہیں کر سکتی۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تیرے لیے روئی تجویز کرتا ہوں کیونکہ وہ خون کو جذب کرتی ہے۔“ انہوں نے کہا: ”وہ اس سے زیادہ ہے۔“ نبی ﷺ نے فرمایا: ”لنگوٹ باندھ لو۔“ انہوں نے کہا: ”وہ اس سے بھی زیادہ ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کپڑا استعمال کر لو۔“ انہوں نے کہا: ”وہ اس سے بھی زیادہ ہے (یعنی اس سے نہیں رک سکتا وہ تو بہتا ہے)۔“ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں آپ کو دو باتوں کا حکم دیتا ہوں جو بھی کر لو درست ہے۔ اور اگر تم دونوں کرنے پر قدرت رکھتی ہو تو تمہیں زیادہ علم ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ شیطان کی ٹھوکروں میں سے ایک ٹھوکر ہے۔ تم اللہ کے علم پر اعتماد کر کے چھ یا سات دن اپنے آپ کو حائضہ سمجھو، پھر غسل کرو یہاں تک کہ جب تم سمجھ لو کہ میں (حیض سے) پاک ہو گئی ہوں تو چوبیس رات دن یا تئیس نماز پڑھو اور روزے رکھو! اور اسی طرح ہر ماہ کرتی رہو جیسا کہ عورتیں اپنے حیض اور طہر کے مقررہ اوقات میں کرتی ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / مسند الإمام الشافعي / حدیث: 110
تخریج حدیث اخرجه الترمذى الطهارة، باب ماجاء في المستحاضة انها تجمع بين الصلاتين بغسل واحد: (128) ـ وقال حسن صحيح وقال ايضاً سألت محمداً عن هذا الحديث فقال: هو حديث حسن صحيح وهكذا قال احمد بن حنبل: هو حديث حسن صحيح واخرجه ابو داود، الطهارة، باب اذا اقبلت الحيضة تدع الصلوة: (287) ـ و ابن ماجة ، الطهارة، باب ماجاء في المستحاصة التي قد عدت ايام أقرائها قبل ان يستمر بها الدم : (622).