کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: سعيد بن المسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ام المؤمنین
حدیث نمبر: 95
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ: أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ أَتَى عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ فَقَالَ: لَقَدْ شَقَّ عَلَيَّ اخْتِلَافُ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَمْرٍ إِنِّي لَاُعَظِّمُ أَنْ أَسْتَقْبِلَكِ بِهِ. قَالَتْ: مَا هُوَ؟ مَا كُنْتَ سَائِلًا عَنْهُ أُمَّكَ فَسَلْنِي عَنْهُ، فَقَالَ لَهَا: الرَّجُلُ يُصِيبُ أَهْلَهُ، ثُمَّ يَكْسَلُ وَلَا يُنْزِلُ. قَالَتْ: إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ. فَقَالَ أَبُو مُوسَى: لَا أَسْأَلُ أَحَدًا بَعْدَكِ أَبَدًا.
حافظ محمد فہد
سعيد بن المسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور کہا: ”مجھ پر محمد ﷺ کے صحابہ کا اختلاف ایک ایسے مسئلہ میں گراں ہو چکا ہے جس کو میں بڑا جانتا ہوں کہ آپ کے سامنے رکھوں۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”وہ کیا مسئلہ ہے؟ جس کے بارے میں تو اپنی ماں سے سوال نہیں کرنا چاہتا، مجھ سے دریافت کرو!“ تو ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ”ایک آدمی اپنی بیوی کے پاس جاتا ہے اور وہ انزال سے قبل دور ہو جاتا ہے۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”جب ختنہ، ختنہ سے تجاوز کر جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔“ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں آپ کے بعد کسی سے (اس مسئلہ میں) کبھی بھی سوال نہ کروں گا۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / مسند الإمام الشافعي / حدیث: 95
تخریج حدیث صحيح: اخرجه البيهقي في المعرفة السنن والآثار (250) وعبد الرزاق (954)