کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: زبید بن صلت سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے
حدیث نمبر: 94
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زُبَيْدِ بْنِ الصَّلْتِ، أَنَّهُ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى الْجُرْفِ، فَنَظَرَ فَإِذَا هُوَ قَدِ احْتَلَمَ، وَصَلَّى وَلَمْ يَغْتَسِلْ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا أَرَانِي إِلَّا قَدِ احْتَلَمْتُ وَمَا شَعَرْتُ، وَصَلَّيْتُ وَمَا اغْتَسَلْتُ. قَالَ: فَاغْتَسَلَ وَغَسَلَ مَا رَأَى فِي ثَوْبِهِ، وَنَضَحَ مَا لَمْ يَرَ، وَأَذَّنَ وَأَقَامَ، ثُمَّ صَلَّى بَعْدَ ارْتِفَاعِ الضُّحَى مُتَمَكِّنًا. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الْوُضُوءِ.
حافظ محمد فہد
زبید بن صلت سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ جرف کی طرف گیا، انہوں نے دیکھا کہ وہ تو احتلام سے ہیں اور غسل کیے بغیر نماز پڑھ لی ہے، تو فرمایا: ”اللہ کی قسم مجھے نہیں معلوم کہ میں احتلام سے ہوں اور میں نے غسل بھی نہیں کیا اور نماز پڑھ لی ہے۔“ زبید کہتے ہیں انہوں نے غسل کیا اور کپڑے کو جہاں منی نظر آ رہی تھی اس جگہ سے دھویا اور جہاں سے نہیں دکھائی دیتی تھی پانی چھڑک دیا، اذان اور اقامت کہی پھر سورج کے بلند ہو جانے کے بعد نماز پڑھی۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / مسند الإمام الشافعي / حدیث: 94
تخریج حدیث صحيح: اخرجه البيهقي: 2/ 399 وفى المعرفة السنن والآثار له (264) وما لك في المؤطا، الطهارة، باب اعادة الجنب الصلوة وغسله اذا صلي ولم يذكر وغسله ثوبه