کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: عروہ بن مغیرہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ وہ
حدیث نمبر: 73
أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ، وَعَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَاةَ تَبُوكَ، قَالَ الْمُغِيرَةُ: فَتَبَرَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ الْغَائِطِ، فَحَمَلْتُ مَعَهُ إِدَاوَةً قَبْلَ الْفَجْرِ، فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذْتُ أُهْرِيقُ عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الْإِدَاوَةِ، وَهُوَ يَغْسِلُ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ يَحْسِرُ جُبَّتَهُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ، فَضَاقَ كُمَّا جُبَّتِهِ، فَأَدْخَلَ يَدَيْهِ فِي الْجُبَّةِ حَتَّى أَخْرَجَ ذِرَاعَيْهِ مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ. قَالَ الْمُغِيرَةُ: فَأَقْبَلْتُ مَعَهُ حَتَّى نَجِدَ النَّاسَ قَدْ قَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ قَدْ صَلَّى لَهُمْ، فَأَدْرَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ مَعَهُ، وَصَلَّى مَعَ النَّاسِ الرَّكْعَةَ الْأَخِيرَةَ، فَلَمَّا سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَتَمَّ صَلَاتَهُ، فَأَفْزَعَ ذَلِكَ الْمُسْلِمِينَ وَأَكْثَرُوا التَّسْبِيحَ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ: "أَحْسَنْتُمْ" أَوْ قَالَ: "أَصَبْتُمْ" ، يَغْبِطُهُمْ أَنْ صَلَّوُا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا.
حافظ محمد فہد
عروہ بن مغیرہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک میں شریک ہوئے تھے۔ مغیرہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ فجر سے پہلے بول و براز کے لیے تشریف لے گئے اور میں نے آپ کے ساتھ پانی کا برتن اٹھایا ہوا تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ واپس آئے تو میں آپ کے ہاتھوں پر برتن سے پانی ڈالنے لگا، آپ ﷺ نے اپنے ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنا چہرہ دھویا، پھر اپنے بازوؤں سے جبہ ہٹانے لگے لیکن جبے کی آستینیں تنگ ہو گئیں تو آپ نے اپنے ہاتھ جبہ میں داخل کیے اور انہیں جبہ کے نیچے سے نکالا، اور اپنے بازوؤں کو کہنیوں سمیت دھویا، پھر وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا، پھر واپس آئے۔ مغیرہ کہتے ہیں: میں بھی آپ کے ساتھ واپس مڑا، ہم نے دیکھا کہ لوگ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے ہیں، نبی ﷺ نے ایک رکعت جماعت کے ساتھ پڑھی اور دوسری رکعت لوگوں کے ساتھ (علیحدہ) پڑھی۔ جب عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے سلام پھیرا تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو گئے اور اپنی نماز مکمل کی۔ اس واقعے نے مسلمانوں کو پریشان کر دیا اور وہ کثرت سے سبحان اللہ کہنے لگے۔ جب نبی ﷺ نے نماز مکمل کی تو صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”تم نے اچھا کیا“ یا فرمایا ”تم نے درست کیا“۔ گویا آپ ﷺ ان کو نماز وقت پر پڑھنے کی ترغیب دلا رہے تھے۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / مسند الإمام الشافعي / حدیث: 73
تخریج حدیث أخرجه مسلم: الطهارة، باب المسح على الناصية والعمامة (274).