کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں: میں وفد بنی المنتفق میں تھا،
حدیث نمبر: 51
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ سُلَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هَاشِمٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ وَفْدَ بَنِي الْمُنْتَفِقِ، أَوْ فِي وَفْدِ بَنِي الْمُنْتَفِقِ، فَأَتَيْنَاهُ فَلَمْ نُصَادِفْهُ، وَصَادَفْنَا عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَأَتَتْنَا بِقِنَاعٍ فِيهِ تَمْرٌ وَالْقِنَاعُ: الطَّبَقُ وَأَمَرَتْ لَنَا بِخَزِيرَةٍ فَصُنِعَتْ، ثُمَّ أَكَلْنَا، فَلَمْ نَلْبَثْ أَنْ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "هَلْ أَكَلْتُمْ شَيْئًا؟ هَلْ أُمِرَ لَكُمْ بِشَيْءٍ؟" فَقُلْنَا: نَعَمْ، فَلَمْ نَلْبَثْ أَنْ دَفَعَ الرَّاعِي غَنَمَهُ، فَإِذَا شَاةٌ تَيْعِرُ، فَقَالَ: هِيهِ يَا فُلَانُ مَا وَلَّدْتَ؟ قَالَ: بَهْمَةً، قَالَ: "فَاذْبَحْ لَنَا مَكَانَهَا شَاةً" ، ثُمَّ انْحَرَفَ إِلَيَّ، فَقَالَ: لَا [ ص: 174 ] تَحْسَبَنَّ، وَلَمْ يَقُلْ: لَا تَحْسَبَنَّ أَنَّا مِنْ أَجْلِكَ ذَبَحْنَاهَا، لَنَا غَنَمٌ مِائَةٌ لَا نُرِيدُ أَنْ تَزِيدَ، فَإِذَا وَلَّدَ الرَّاعِي بَهْمَةً ذَبَحْنَا مَكَانَهَا شَاةً، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّ لِي امْرَأَةً فِي لِسَانِهَا شَيْءٌ، يَعْنِي: الْبَذَاءَ، فَقَالَ: "طَلِّقْهَا" ، قُلْتُ: إِنَّ لِي مِنْهَا وَلَدًا وَلَهَا صُحْبَةٌ، قَالَ: فَمُرْهَا، يَقُولُ: عِظْهَا فَإِنْ يَكُنْ فِيهَا خَيْرٌ فَسَتَقْبَلُ، وَلَا تَضْرِبَنَّ ظَعِينَتَكَ ضَرْبَكَ أُمَيَّتَكَ . قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ، قَالَ: "أَسْبِغِ الْوُضُوءَ، وَخَلِّلْ بَيْنَ الْأَصَابِعِ، وَبَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا" .
حافظ محمد فہد
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں: میں وفد بنی المنتفق میں تھا، ہم نبی ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ سے نہ مل سکے۔ ہمارا سامنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہوا تو انہوں نے کھجور کے پتوں سے بنے ہوئے برتن میں ہمارے پاس کھجوریں بھیجیں اور ہمارے لیے گوشت کے چھوٹے ٹکڑے کر کے پکانے کا حکم دیا، وہ گوشت پکایا گیا، پھر ہم نے کھایا۔ ہم تھوڑی دیر ٹھہرے کہ نبی ﷺ بھی آگئے، آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے کچھ کھایا؟ کیا تمہارے لیے کچھ لانے کا کہا گیا ہے؟“ ہم نے کہا: ہاں۔ تھوڑی دیر بعد ایک چرواہے نے بکریاں ہانکیں تو ان میں ایک بکری چلا رہی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے فلاں! بکری نے کیا جنا؟“ چرواہے نے کہا: ”بچہ“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہمارے لیے اس کی جگہ بکری ذبح کرو“۔ پھر آپ ﷺ نے میری طرف رخ کیا اور فرمایا: ”یہ مت سمجھو کہ ہم نے یہ جانور تمہارے لیے ذبح کیا، ہماری سو بکریاں ہیں ہم نہیں چاہتے کہ وہ زیادہ ہوں جب ایک بکری بچہ جنم دیتی ہے تو ہم اس کی جگہ دوسری کو ذبح کر دیتے ہیں۔“ لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میری عورت بری زبان والی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو طلاق دے دے۔“ میں نے کہا: میں نے اس کے ساتھ وقت گزارا اور میری اس سے اولاد بھی ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو نصیحت کر اگر اس میں خیر ہوئی تو وہ قبول کر لے گی، اور اپنی بیوی کو لونڈی کی طرح نہ مارو۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے وضو کے متعلق بتائیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وضو اچھی طرح پورا کرو، انگلیوں کا خلال کرو، اور ناک میں پانی اچھی طرح چڑھایا کرو مگر روزہ کی حالت میں (ایسا نہ کرو)۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / مسند الإمام الشافعي / حدیث: 51
تخریج حدیث أخرجه أبو داود: الطهارة، باب في الاستنثار: (142) والترمذي: الطهارة، باب ما جاء في تخليل الأصابع: (38) - وقال: ”حسن صحيح“ وصححه ابن الجارود : (80) وابن خزیمه (150) (168) والحاكم : 1/ 148.