کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: کبشہ بنت کعب بن مالک جو ابوقتادہ رضی اللہ عنہ یا ان کے کسی بیٹے کی بیوی تھیں
حدیث نمبر: 7
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ وَكَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ، أَوْ أَبِي قَتَادَةَ، الشَّكُّ مِنَ الرَّبِيعِ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ دَخَلَ، فَسَكَبَتْ لَهُ وَضُوءًا، فَجَاءَتْ هِرَّةٌ، فَشَرِبَتْ مِنْهُ، فَقَالَتْ: فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَتَعْجَبِينَ يَا بِنْتَ أَخِي؟ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ، إِنَّهَا مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ أَوِ الطَّوَّافَاتِ" . أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ الْوُضُوءِ.
حافظ محمد فہد
کبشہ بنت کعب بن مالک جو ابوقتادہ رضی اللہ عنہ یا ان کے کسی بیٹے کی بیوی تھیں بیان کرتی ہیں کہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ آئے تو میں نے ان کے وضو کے لیے برتن رکھا، بلی آئی اور اس نے اس برتن سے پانی پیا، وہ کہتی ہیں مجھے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ میں تعجب کے ساتھ اس کی طرف دیکھ رہی ہوں، تو انہوں نے فرمایا: ”کیا تو تعجب کرتی ہے اے میری بھتیجی؟ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ نجس نہیں ہے، یہ ہر وقت تمہارے پاس آمد و رفت رکھنے والوں یا والیوں میں سے ہے۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / مسند الإمام الشافعي / حدیث: 7
تخریج حدیث أخرجه الترمذي: الطهارة، باب ماجاء في سؤر الهرة: (92) - وقال ”حسن صحيح“ وابوداؤد، الطهارة، باب سؤر الهرة (75) و ابن ماجة، الطهارة، باب الوضوء بسؤر الهرة والرخصه في ذلك: (367) وصححه ابن الجارود: (60) وابن خزيمة: (104). والحاكم: 159/1، 160.