کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - ذکر وصف کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کس چیز کے لیے لڑتے تھے
حدیث نمبر: 6934
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ : " لأَدْفَعَنَّ الْيَوْمَ اللِّوَاءَ إِِلَى رَجُلٍ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيْهِ ، قَالَ عُمَرُ : فَمَا أَحْبَبْتُ الإِِمَارَةَ إِِلا يَوْمَئِذٍ ، فَتَطَاوَلْتُ لَهَا ، فَقَالَ لِعَلِيٍّ : قُمْ ، فَدَفَعَ اللِّوَاءَ إِِلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ لَهُ : اذْهَبْ وَلا تَلْتَفِتْ حَتَّى يَفْتَحَ اللَّهُ عَلَيْكَ ، فَمَشَى هُنَيْهَةً ، ثُمَّ قَامَ وَلَمْ يَلْتَفِتْ لِلْعَزْمَةِ ، فَقَالَ : عَلَى مَا أُقَاتِلُ النَّاسَ ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَاتِلْهُمْ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ ، فَإِِذَا قَالُوهَا فَقَدْ عَصَمُوا دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِِلا بِحَقِّهَا ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ خیبر کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آج میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے فتح نصیب کرے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے صرف اسی دن امیر بنے کی خواہش کی، میں اس کے لیے منتظر رہا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم اٹھو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جھنڈا ان کے سپرد کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم جاؤ اور ادھر ادھر متوجہ نہ ہونا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہیں فتح نصیب کر دے وہ تھوڑی ہی دور گئے تھے پھر ٹھہر گئے انہوں نے ادھر ادھر نہیں دیکھا اور دریافت کیا: میں کس بنیاد پر لوگوں کے ساتھ لڑائی کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان کے ساتھ لڑائی کرو، یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، جب وہ یہ کلمہ پڑھ لیں گے تو وہ اپنی جانوں اور اپنے مالوں کو محفوظ کر لیں گے، البتہ ان کے حق کا معاملہ مختلف ہے ان کا حساب اللہ کے ذمے ہو گا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 6934
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (407/ 12): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
حدیث تخریج «رقم طبعة با وزير 6895»