کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ اللہ جل وعلا نے اس امت میں مسلمانوں پر اموال کی فتح عطا کی
حدیث نمبر: 6678
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ الْخُزَاعِيَّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَصَدَّقُوا ، فَسَيَأْتِي عَلَيْكُمْ يَوْمٌ يَمُرُّ أَحَدُكُمْ بِصَدَقَتِهِ ، فَلا يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهَا ، يَقُولُ : فَهَلا قَبْلَ الْيَوْمِ ، فَأَمَّا الْيَوْمَ ، فَلا حَاجَةَ لِي فِيهَا " .
ابوعبیدہ بن حذیفہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کے بارے میں دریافت کر رہا تھا۔ وہ میرے پہلو میں موجود تھے۔ میں نے ان کے پاس جا کر ان سے دریافت نہیں کیا پھر میں ان کے پاس گیا۔ ان سے دریافت کیا: تو انہوں نے بتایا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تو میں آپ کو سب سے زیادہ ناپسند کرتا تھا پھر میں روانہ ہوا یہاں تک کہ میں زمین کے دور دراز کے حصے میں چلا گیا جو اہل روم (کے علاقے) کے قریب تھا۔ میں نے سوچا اگر میں ان صاحب کے پاس جاؤں تو اگر تو یہ جھوٹے ہوئے تو یہ بات مجھ سے مخفی نہیں رہے گی اور اگر یہ سچے ہوئے تو میں ان کی پیروی کر لوں گا تو میں آ گیا۔ جب میں مدینہ منورہ آیا تو لوگ میری طرف جھانک کر دیکھنے لگے۔ انہوں نے کہا: عدی بن حاتم آئے ہیں۔ عدی بن حاتم آئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عدی بن حاتم تم اسلام قبول کر لو تم سلامت رہو گے۔ میں نے عرض کی: میرا اپنا دین ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے دین کے بارے میں تم سے زیادہ جانتا ہوں۔ یہ بات آپ نے دو یا تین مرتبہ ارشاد فرمائی پھر آپ نے فرمایا: کیا تم اپنی قوم کے سردار نہیں ہو۔ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم مال غنیمت میں سے چوتھائی حصہ نہیں کھاتے ہو؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو تمہارے دین میں تو یہ تمہارے لئے جائز نہیں ہے۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اس بات پر میں شرمندہ ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عدی بن حاتم تم اسلام قبول کر لو تم سلامت رہو گے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا یہ گمان ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) میں یہ سمجھتا ہوں یا جیسا بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اس لئے اسلام قبول نہیں کر رہے کہ تم میرے اردگرد ایسے لوگوں کو دیکھ رہے ہو جو ضرورت مند ہیں۔ عنقریب کوئی عورت حیرہ سے کسی کی پناہ لئے بغیر سوار ہو کر جائے گی یہاں تک کہ بیت اللہ کا طواف کرے گی اور ہمارے لئے کسریٰ بن ہرمز کے خزانے کھول دیئے جائیں گے اور مال عام ہو جائے گا، یہاں تک کہ ایک شخص یہ آرزو کرے گا کہ کوئی شخص اس
سے اس کا مال صدقہ کے طور پر قبول کر لے۔
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تو میں نے ایک عورت کو دیکھا کہ وہ حیرہ سے کسی کی پناہ کے بغیر سوار ہوئی، یہاں تک کہ اس نے بیت اللہ کا طواف کیا اور میں اس پہلے لشکر میں شامل تھا جس نے مدائن میں کسریٰ بن ہرمز کے خزانوں پر حملہ کیا تھا اور میں اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ وہ تیسری بات بھی ضرور درست ثابت ہو گی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمائی تھی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6678
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «تخريج مشكلة الفقر» (128): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
حدیث تخریج «رقم طبعة با وزير 6643»