کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ لوگوں نے ابو ذر غفاری کو مدینہ سے نکالا
حدیث نمبر: 6668
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : أَتَانِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا نَائِمٌ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ ، فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ ، وَقَالَ : أَلا أَرَاكَ نَائِمًا فِيهِ ؟ قُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، غَلَبَتْنِي عَيْنِي ، قَالَ : " فَكَيْفَ تَصْنَعُ إِِذَا أُخْرِجْتَ مِنْهُ ؟ قُلْتُ : مَا أَصْنَعُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَضْرِبُ بِسَيْفِي ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلا أَدُلُّكَ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكَ مِنْ ذَلِكَ وَأَقْرَبُ رُشْدًا ، تَسْمَعُ وَتُطِيعُ ، وَتَنْسَاقُ لَهُمْ حَيْثُ سَاقُوكَ " .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کرنا شروع کی۔ ” جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے راستہ بنا دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق عطا کرتا ہے جہاں اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کو دہراتے رہے یہاں تک کہ مجھے اونگھ آ گئی۔ آپ نے فرمایا: اے ابوذر! اگر تمام لوگ اسی کو اختیار کر لیں تو یہی ان کے لئے کافی ہے پھر آپ نے فرمایا: اے ابوذر تم اس وقت کیا کرو گے جب تمہیں مدینہ منورہ سے نکال دیا جائے گا۔ میں نے عرض کی: میں اپنی گنجائش کے مطابق یہ کوشش کروں گا کہ میں مکہ کا کبوتر بن جاؤں (یعنی مکہ منتقل ہو جاؤں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم اس وقت کیا کرو گے جب تمہیں مکہ سے بھی نکال دیا جائے گا۔ میں نے عرض کی: میں اپنی گنجائش اور حیثیت کے مطابق کوشش کروں گا کہ میں شام کی سرزمین کی طرف چلا جاؤں اور ارض مقدس کی طرف چلا جاؤں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم اس وقت کیا کرو گے جب تمہیں وہاں سے بھی نکال دیا جائے گا۔ میں نے عرض کی: اس صورت میں اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے میں اپنی تلوار پکڑوں گا اور اسے اپنی گردن میں لٹکا لوں گا (اور ان لوگوں سے لڑنا شروع کر دوں گا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اس سے زیادہ صحیح یہ نہیں ہے کہ تم ناک کان کٹے ہوئے اس حبشی غلام کی اطاعت و فرمانبرداری کرو (جو حاکم وقت ہو گا)
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6668
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن بما بعده - «الظلال» (1074). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
حدیث تخریج «رقم طبعة با وزير 6633»