کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسلام کی دعوت دینے پر کچھ ایذاء دی
حدیث نمبر: 6567
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قُلْتُ : مَا أَكْثَرُ مَا رَأَيْتَ قُرَيْشًا أَصَابَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِيمَا كَانَتْ تُظْهِرُ مِنْ عَدَاوَتِهِ ؟ ، قَالَ : قَدْ حَضَرْتُهُمْ وَقَدِ اجْتَمَعَ أَشْرَافُهُمْ فِي الْحِجْرِ ، فَذَكَرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : مَا رَأَيْنَا مِثْلَ مَا صَبَرْنَا عَلَيْهِ مِنْ هَذَا الرَّجُلِ قَطُّ ، سَفَّهَ أَحْلامَنَا ، وَشَتَمَ آبَاءَنَا ، وَعَابَ دِينَنَا ، وَفَرَّقَ جَمَاعَتَنَا ، وَسَبَّ آلِهَتَنَا ، لَقَدْ صَبَرْنَا مِنْهُ عَلَى أَمْرٍ عَظِيمٍ ، أَوْ كَمَا قَالُوا ، فَبَيْنَا هُمْ فِي ذَلِكَ ، إِِذْ طَلَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَقْبَلَ يَمْشِي حَتَّى اسْتَلَمَ الرُّكْنَ ، فَمَرَّ بِهِمْ طَائِفًا بِالْبَيْتِ ، فَلَمَّا أَنْ مَرَّ بِهِمْ ، غَمَزُوهُ بِبَعْضِ الْقَوْلِ ، قَالَ : وَعَرَفْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ ، ثُمَّ مَضَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا مَرَّ بِهِمُ الثَّانِيَةَ غَمَزُوهُ بِمِثْلِهَا ، فَعَرَفْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ ، ثُمَّ مَضَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَرَّ بِهِمُ الثَّالِثَةَ ، غَمَزُوهُ بِمِثْلِهَا ، ثُمَّ قَالَ : " أَتَسْمَعُونَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، أَمَا وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِالذَّبْحِ " ، قَالَ : فَأَخَذَتِ الْقَوْمَ كَلِمَتُهُ حَتَّى مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِِلا لَكَأَنَّمَا عَلَى رَأْسِهِ طَائِرٌ وَاقِعٌ ، حَتَّى إِِنَّ أَشَدَّهُمْ فِيهِ وَطْأَةً قَبْلَ ذَلِكَ يَتَوَقَّاهُ بِأَحْسَنِ مَا يُجِيبُ مِنَ الْقَوْلِ ، حَتَّى إِِنَّهُ لَيَقُولُ : انْصَرِفْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، انْصَرِفْ رَاشِدًا ، فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ جَهُولا ، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى إِِذَا كَانَ مِنَ الْغَدِ اجْتَمَعُوا فِي الْحِجْرِ وَأَنَا مَعَهُمْ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : ذَكَرْتُمْ مَا بَلَغَ مِنْكُمْ وَمَا بَلَغَكُمْ عَنْهُ ، حَتَّى إِِذَا بَادَأَكُمْ بِمَا تَكْرَهُونَ تَرَكْتُمُوهُ ، وَبَيْنَا هُمْ فِي ذَلِكَ ، إِِذْ طَلَعَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَثَبُوا إِِلَيْهِ وَثْبَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ ، وَأَحَاطُوا بِهِ ، يَقُولُونَ لَهُ : أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ كَذَا وَكَذَا ، لِمَا كَانَ يَبْلُغُهُمْ عَنْهُ مِنْ عَيْبِ آلِهَتِهِمْ وَدِينِهِمْ ؟ ، قَالَ : " نَعَمْ ، أَنَا الَّذِي أَقُولُ ذَلِكَ " ، قَالَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَجُلاً مِنْهُمْ أَخَذَ بِمَجْمَعِ رِدَائِهِ ، وَقَالَ : وَقَامَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دُونَهُ يَقُولُ وَهُوَ يَبْكِي : أَتَقْتُلُونَ رَجُلا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ ؟ ! ثُمَّ انْصَرَفُوا عَنْهُ ، فَإِِنَّ ذَلِكَ لأَشُدُّ مَا رَأَيْتُ قُرَيْشًا بَلَغَتْ مِنْهُ قَطُّ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے ضماد نامی جس کا تعلق ازدشنوءہ سے تھا وہ مکہ آیا وہ ہوا (یعنی ذہنی خرابی) کا دم کیا کرتا تھا۔ اہل مکہ کے بے وقوف لوگ یہ کہتے تھے: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جنون لاحق ہو گیا ہے، اس شخص نے کہا: اگر میں اس شخص کو دیکھ لوں تو ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ اسے میرے ذریعے شفا دیدے۔ راوی کہتے ہیں: اس کی ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی، اس نے کہا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں اس ہوا (یعنی ذہنی توازن خراب ہونے) کا دم کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے میرے ذریعے شفا دیدیتا ہے تو کیا آپ کو اس میں کوئی دلچسپی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بے شک ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے۔ ہم اسی کی حمد بیان کرتے ہیں، اور اسی سے مدد طلب کرتے ہیں جس شخص کو اللہ تعالیٰ ہدایت دیدے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ رہنے دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ امابعد “ اس شخص نے کہا: آپ اپنے یہ کلمات میرے سامنے دوبارہ دہرائیے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ کلمات اس کے سامنے دہرا دیے۔ اس شخص نے کہا: میں نے کاہنوں کا کلام سنا ہے جادوگروں کا کلام سنا ہے شاعروں کا کلام سنا ہے لیکن میں نے آپ کے ان کلمات کی مانند کوئی کلام نہیں سنا۔ آپ اپنا ہاتھ آگے کیجئے تاکہ میں آپ کے دست اقدس پر اسلام کی بیعت کروں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہاری قوم بھی کرے گی؟ اس نے کہا: میری قوم بھی کرے گی۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بیعت لے لی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگی مہم روانہ کی۔ ان لوگوں کا گزر ایک قوم کے پاس سے ہوا تو اس لشکر کے امیر نے اپنے لشکر سے کہا: کیا تم نے ان لوگوں سے کوئی چیز لی ہے تو حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا: میں نے ان سے ایک لوٹا لیا ہے تو امیر نے کہا: تم وہ انہیں واپس کر دو کیونکہ یہ ضماد کی قوم کے افراد ہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6567
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - انظر التعليق. * [ابْنِ إِسْحَاقَ] قال الشيخ: هو محمد بن إِسحاق، صاحب «السيرة»، وهو مُدَلِّسٌ، ولكنَّه صَرَّحَ بالتحديث؛ فالإسناد حسنٌ لأنَّ بَقِيَّةَ الرجال ثقات، رجال الشيخين؛ غير عبد الحميد - ويقال: عبد؛ بغير إضافة -، وهو ثقةٌ من رجال مسلم. وهو في «السيرة» لابن هشام من هذا الوجه. ومن طريقه: أحمد (2/ 218). ثُمَّ أَخْرَجَه (2/ 204)، والبخاري (3678) من طريق مُحمَّد بن إِبراهِيم، عن عُروة بن الزبير ... به مُختَصراً بقصَّة الإيذاء، ودفع أبي بكر عنه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
حدیث تخریج «رقم طبعة با وزير 6533»