کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: معجزاتِ کا بیان - ذکر خبر کہ حاطب بن ابی بلتعہ کے خط کے بارے میں جو انہوں نے قریش کو مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے خروج کی خبر دینے کے لیے لکھا
حدیث نمبر: 6499
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْنَاهُ مِنْ عَمْرٍو ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ وَهُوَ كَاتَبُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا ، يَقُولُ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالزُّبَيْرَ ، وَطَلْحَةَ ، وَالْمِقْدَادَ بْنَ الأَسْوَدِ ، فَقَالَ : " انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ ، فَإِِنَّ بِهَا ظَعِينَةً مَعَهَا كِتَابٌ ، فَخُذُوهُ مِنْهَا " ، فَانْطَلَقْنَا تَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا ، حَتَّى أَتَيْنَا الرَّوْضَةَ ، فَإِِذَا نَحْنُ بِالظَّعِينَةِ ، فَقُلْنَا لَهَا : أَخْرِجِي الْكِتَابَ ، فَقَالَتْ : مَا مَعِي مِنْ كِتَابٍ ، فَقُلْنَا : آللَّهِ لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَنُلْقِيَنَّ الثِّيَابَ ، فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا ، فَأَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِِذَا فِيهِ : مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِِلَى نَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ ، يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا حَاطِبُ ، مَا هَذَا ؟ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لا تَعْجَلْ عَلَيَّ إِِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ ، وَلَمْ أَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ، وَكَانَ مَنْ مَعَكَ مِنَ الْمُهَاجِرِينِ لَهُمْ قَرَابَاتٌ بِمَكَّةَ ، يَحْمُونَ قَرَابَتَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ ، وَلَمْ يَكُنْ لِي قَرَابَةٌ أَحْمِي بِهَا أَهْلِي ، فَأَحْبَبْتُ إِِنْ فَاتَنِي ذَلِكَ مِنَ النَّسَبِ أَنْ أَتَّخِذَ عِنْدَهُمْ يَدًا يَحْمُونَ قَرَابَتِي وَأَهْلِي ، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا فَعَلْتُ ذَلِكَ ارْتِدَادًا عَنْ دِينِي ، وَلا رِضًا بِالْكُفْرِ بَعْدَ الإِِسْلامِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِنَّ هَذَا قَدْ صَدَقَكُمْ " ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِنَّهُ شَهِدَ بَدْرًا ، وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَكُونَ قَدِ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ ، فَقَالَ : اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ ، فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ " ، وَأَنْزَلَ فِيهِ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ سورة الممتحنة آية 1 .
عبید اللہ بن ابورافع سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے معتمد خصوصی تھے۔ وہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کو اور سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ جاؤ اور خاخ نامی باغ میں پہنچو۔ وہاں ایک عورت ہو گی، اس کے پاس ایک خط ہو گا، وہ تم اس سے لے لینا۔ ہم لوگ اپنے گھوڑوں کو دوڑاتے ہوئے اس باغ تک آئے، وہاں ایک عورت موجود تھی۔ ہم نے اسے کہا: تم خط نکالو۔ اس نے کہا: میرے پاس کوئی خط نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! یا تو تم خط نکالو گی یا ہم تمہاری جامہ تلاشی لیں گے، تو اس نے اپنے بالوں کے جوڑے میں سے خط نکال دیا۔ ہم وہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو وہ خط حاطب بن ابوبلتعہ کی طرف سے مکہ میں رہنے والے کچھ مشرکین کے نام تھا۔ اس خط میں سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادوں کے بارے میں بتایا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے حاطب یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے بارے میں جلدی نہ کیجئے۔ میں ایک ایسا شخص ہوں جو قریش کے ساتھ ملا ہوا ہوں، لیکن میں قریش کا حصہ نہیں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو دیگر مہاجرین ہیں۔ ان کے مکہ میں رشتہ دار موجود ہیں، جس کی وجہ سے ان کے رشتہ دار اور اہل خانہ محفوظ ہیں، لیکن میری مکہ میں کسی کے ساتھ رشتہ داری نہیں ہے جس کی وجہ سے میں اپنے اہل خانہ کو محفوظ کر لوں۔ اس لیے میں یہ چاہتا تھا کہ اگر نسبی طور پر میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے تو پھر میں ان پر کوئی احسان کر دوں، جس کی وجہ سے وہ میرے قرابت داروں اور میرے گھر والوں کا خیال رکھیں۔ اللہ کی قسم! یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! میں نے اپنے دین سے مرتد ہوتے ہوئے یا اسلام قبول کرنے کے بعد کفر سے راضی ہوتے ہوئے ایسا نہیں کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس نے تمہارے ساتھ سچ بولا: ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ بدر میں شریک ہوا ہے۔ تمہیں کیا پتہ شاید اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف متوجہ ہو کر کہا: ہو۔ تم جو چاہو عمل کرو میں نے تمہاری مغفرت کر دی ہے۔
(راوی کہتے ہیں:) اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ” اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6499
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
حدیث تخریج «رقم طبعة با وزير 6465»