کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر کہ جو مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے مرے اور وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرے اس کے لیے شفاعت لازم ہے
حدیث نمبر: 6463
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : عَرَّسَ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَافْتَرَشَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا ذِرَاعَ رَاحِلَتِهِ ، قَالَ : فَانْتَبَهْتُ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ ، فَإِِذَا نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ قُدَّامَهَا أَحَدٌ ، فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِِذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ قَائِمَانِ ، فَقُلْتُ : أَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالا : لا نَدْرِي ، غَيْرَ أَنَّا سَمِعْنَا صَوْتًا بِأَعْلَى الْوَادِي ، فَإِِذَا مِثْلُ هَدِيرِ الرَّحَى ، قَالَ : فَلَبِثْنَا يَسِيرًا ، ثُمَّ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِِنَّهُ أَتَانِي مِنْ رَبِّي آتٍ ، فَخَيَّرَنِي بِأَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ ، وَإِِنِّي اخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ " ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَنْشُدُكَ بِاللَّهِ وَالصُّحْبَةِ لَمَا جَعَلْتَنَا مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِكَ ، قَالَ : " فَأَنْتُمْ مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِي " ، قَالَ : فَلَمَّا رَكِبُوا ، قَالَ : " فَإِِنِّي أُشْهَدُ مَنْ حَضَرَ أَنَّ شَفَاعَتِيَ لِمَنْ مَاتَ لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا مِنْ أُمَّتِي " .
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ پڑاؤ کیا، ہر شخص نے اپنی سواری کے بازو کو بچھا دیا۔ راوی کہتے ہیں: رات کے کسی حصے میں، میں بیدار ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے آگے کوئی موجود نہیں تھا (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غیر موجود تھے) میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلا، تو سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ بھی وہاں کھڑے تھے۔ میں نے دریافت کیا کہ اللہ کے رسول کہاں ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: ہمیں نہیں پتہ، البتہ ہم نے وادی کے بالائی حصہ سے آواز سنی ہے، جو چکی چلنے کی طرح کی آواز تھی۔
راوی کہتے ہیں: ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا: میرے پاس میرے پروردگار کی طرف سے ایک قاصد آیا اور اس نے مجھے اس بات کا اختیار دیا کہ یا تو میری امت کا نصف حصہ جنت میں داخل ہو جائے یا شفاعت (کو میں اختیار کر لوں) تو میں نے شفاعت کو اختیار کر لیا۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! ہم آپ کو اللہ کا واسطہ دیتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے تعلق کا واسطہ دیتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ان لوگوں میں شامل کیجئے، جن کو آپ کی شفاعت نصیب ہو گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں کو میری شفاعت نصیب ہو گی۔ راوی کہتے ہیں: جب وہ لوگ سوار ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں تمام حاضرین کو اس بات کا گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں کہ میری امت کا جو بھی فرد ایسی حالت میں فوت ہو کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، اسے میری شفاعت نصیب ہو گی۔
راوی کہتے ہیں: ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا: میرے پاس میرے پروردگار کی طرف سے ایک قاصد آیا اور اس نے مجھے اس بات کا اختیار دیا کہ یا تو میری امت کا نصف حصہ جنت میں داخل ہو جائے یا شفاعت (کو میں اختیار کر لوں) تو میں نے شفاعت کو اختیار کر لیا۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! ہم آپ کو اللہ کا واسطہ دیتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے تعلق کا واسطہ دیتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ان لوگوں میں شامل کیجئے، جن کو آپ کی شفاعت نصیب ہو گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں کو میری شفاعت نصیب ہو گی۔ راوی کہتے ہیں: جب وہ لوگ سوار ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں تمام حاضرین کو اس بات کا گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں کہ میری امت کا جو بھی فرد ایسی حالت میں فوت ہو کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، اسے میری شفاعت نصیب ہو گی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6463
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (211). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
حدیث تخریج «رقم طبعة با وزير 6429»