کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "میری شفاعت میری امت کے لیے" سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ کے ساتھ شرک نہ کریں، نہ کہ مشرکین
حدیث نمبر: 6462
أَخْبَرَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ بِبُسْتَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَمَّادٍ بِالْبَصْرَةِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي : بُعِثْتُ إِِلَى الأَحْمَرِ وَالأَسْوَدِ ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمَ وَلَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِي ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ ، فَيُرْعَبُ الْعَدُوُّ مِنْ مَسِيرَةِ شَهْرٍ ، وَجُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا ، وَقِيلَ لِي : سَلْ تُعْطَهْ ، وَاخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لأُمَّتِي فِي الْقِيَامَةِ ، وَهِيَ نَائِلَةٌ إِِنْ شَاءَ اللَّهُ لِمَنْ لَمْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا " .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” مجھے پانچ ایسی چیزیں عطا کی گئی ہیں، جو مجھ سے پہلے کسی کو عطا نہیں کی گئیں۔ مجھے سرخ و سیاہ (یعنی تمام بنی نوع انسان) کی طرف مبعوث کیا گیا۔ میرے لیے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا جو مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں ہوا تھا۔ میری رعب کے ذریعے مدد کی گئی، دشمن ایک ماہ کی مسافت سے مرعوب ہو جاتا ہے، میرے لیے تمام روئے زمین کو طہارت کے حصول کا ذریعہ اور جائے نماز قرار دیا گیا۔ اور مجھ سے یہ کہا: گیا: تم مانگو تمہیں دیا جائے گا، تو میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے سنبھال کر رکھ لیا ہے۔ اگر اللہ نے چاہا تو یہ دعا ہر اس شخص کو نصیب ہو گی جو کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہراتا ہو گا۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6462
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (1/ 316)، «صحيح أبي داود» (506). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
حدیث تخریج «رقم طبعة با وزير 6428»