کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے اپنے برگزیدہ صلی اللہ علیہ وسلم پر فضل کیا کہ انہیں حوض عطا کیا تاکہ وہ قیامت کے دن اپنی امت کو اس سے سیراب کریں، اللہ ہمیں اپنے فضل سے ان میں شامل کرے
حدیث نمبر: 6458
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ زَاجْ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا شَدَّادُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْوَازِعِ جَابِرَ بْنَ عَمْرٍو ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَرْزَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْ حَوْضِي كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِِلَى صَنْعَاءَ مَسِيرَةَ شَهْرٍ ، عَرْضُهُ كَطُولِهِ ، فِيهَا مِيزَابَانِ يَنْثَعِبَانِ مِنَ الْجَنَّةِ مِنْ وَرِقٍ وَذَهَبٍ ، أَبْيَضُ مِنَ اللَّبَنِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ، وَأَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ ، فِيهِ أَبَارِيقُ عَدَدُ نُجُومِ السَّمَاءِ " .
سیدنا ابوبرزه رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” میرے حوض کے دو کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا ایلہ سے لے کر صنعاء تک کا فاصلہ ہے، جو ایک ماہ کی مسافت جتنا ہے۔ اس حوض کی چوڑائی اس حوض کی لمبائی جتنی ہے اس میں دو پرنالے ہیں، جو جنت سے آتے ہیں۔ چاندی اور سونے کے بنے ہوئے ہیں (اس کا مشروب یا پانی) دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھا اور برف زیادہ ٹھنڈا ہے۔ اس حوض کے پاس آسمان کے ستاروں جتنے کوزے ہیں۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6458
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الظلال» (722). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
حدیث تخریج «رقم طبعة با وزير 6424»