کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم پر امتوں کو پیش کیا
حدیث نمبر: 6430
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، فَقَالَ لَنَا : أَيُّكُمْ رَأَى الْكَوْكَبَ الَّذِي انْقَضَّ الْبَارِحَةَ ؟ ، قَالَ : قُلْتُ أَنَا ، أَمَا إِِنِّي لَمْ أَكُنْ فِي الصَّلاةِ ، وَلَكِنِّي لُدِغْتُ ، قَالَ : فَمَا فَعَلْتَ ؟ ، قُلْتُ : اسْتَرْقَيْتُ ، قَالَ : وَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : حَدِيثٌ حَدَّثَنَاهُ الشَّعْبِيُّ ، قَالَ : وَمَا يُحَدِّثُكُمُ الشَّعْبِيُّ ؟ قَالَ : قُلْتُ : حَدَّثَنَا عَنْ بُرَيْدَةَ بْنِ حَصِيبٍ الأَسْلَمِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : " لا رُقْيَةَ إِِلا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ " . قَالَ : فَقَالَ قَالَ : فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " عُرِضَتْ عَلَيَّ الأُمَمُ ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ وَمَعَهُ رَهْطٌ ، وَالنَّبِيَّ وَمَعَهُ رَجُلٌ ، وَالنَّبِيَّ وَلَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ ، إِِذْ رُفِعَ لِي سَوَادٌ عَظِيمٌ ، فَقُلْتُ : هَذِهِ أُمَّتِي ؟ ، فَقِيلَ : هَذَا مُوسَى وَقَوْمُهُ ، وَلَكِنِ انْظُرْ إِِلَى الأُفُقِ ، فَنَظَرْتُ ، فَإِِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ ، ثُمَّ قِيلَ لِي : انْظُرْ إِِلَى هَذَا الْجَانِبِ الآخَرِ ، فَإِِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ ، فَقِيلَ لِي : أُمَّتُكَ وَمَعَهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلا عَذَابٍ " ، ثُمَّ نَهَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَخَلَ ، فَخَاضَ الْقَوْمُ فِي ذَلِكَ ، وَقَالُوا : مَنْ هَؤُلاءِ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَعَلَّهُمُ الَّذِينَ صَحِبُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَعَلَّهُمُ الَّذِينَ وُلِدُوا فِي الإِِسْلامِ وَلَمْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ قَطُّ ، وَذَكَرُوا أَشْيَاءَ ، فَخَرَجَ إِِلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا الَّذِي كُنْتُمْ تَخُوضُونَ فِيهِ ؟ " ، فَأَخْبَرُوهُ بِمَقَالَتِهِمْ ، فَقَالَ : " هُمُ الَّذِينَ لا يَكْتَوُونَ ، وَلا يَسْتَرْقُونَ ، وَلا يَتَطَيَّرُونَ ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ " ، فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ الأَسَدِيُّ ، فَقَالَ : أَنَا مِنْهُمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَنْتَ مِنْهُمْ " ، ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ : أَنَا مِنْهُمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ " .
حصین بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں: میں سعید بن جبیر کے پاس موجود تھا۔ انہوں نے ہم سے دریافت کیا تم میں سے کس نے وہ ستارہ دیکھا ہے جو گزشتہ رات ٹوٹا تھا۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے جواب دیا: میں نے۔ میں اس وقت نماز کی حالت میں نہیں تھا بلکہ مجھے کسی زہریلے جانور نے کاٹ لیا تھا۔ انہوں نے دریافت کیا پھر تم نے کیا کیا۔ میں نے جواب دیا: میں نے دم کیا۔ انہوں نے دریافت کیا تم نے ایسا کیوں کیا۔ میں نے جواب دیا: اس حدیث کی وجہ سے جو امام شعبی نے ہمیں بیان کی ہے انہوں نے دریافت کیا شعبی نے تمہیں کیا حدیث بیان کی ہے؟ میں نے کہا: انہوں نے سیدنا بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی، انہوں نے یہ فرمایا: دم صرف نظر لگنے یا بخار کی صورت میں ہوتا ہے۔
تو سعید بن جبیر نے کہا: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بتایا ہے: ” میرے سامنے مختلف امتوں کو پیش کیا گیا، میں نے کسی نبی کو دیکھا کہ اس کے ساتھ کچھ افراد تھے۔ کسی نبی کو دیکھا اس کے ساتھ ایک فرد تھا۔ کسی نبی کو دیکھا اس کے ساتھ کوئی بھی نہیں تھا۔ اسی دوران بہت سارے لوگ میرے سامنے آئے تو میں نے سوچا شاید یہ میری امت ہو گی، لیکن بتایا گیا کہ یہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کے لوگ ہیں۔ اب آپ افق کی طرف دیکھئے جب میں نے اس طرف دیکھا تو وہاں ایک بہت بڑی تعداد تھی، پھر مجھ سے کہا: گیا کہ آپ دوسری طرف دیکھئے، تو وہاں بھی بہت بڑی تعداد تھی، تو مجھے بتایا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے اور ان کے ہمراہ ستر ہزار ایسے لوگ ہیں جو کسی حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے۔ “
پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور گھر کے اندر تشریف لے گئے۔ لوگ اس بارے میں غور و فکر کرتے رہے۔ انہوں نے یہ کہا: کہ یہ کون لوگ ہوں گے جو بغیر کسی حساب کے جنت میں داخل ہوں گے، تو ان میں سے بعض حضرات نے یہ کہا: کہ شاید یہ وہ لوگ ہیں، جن کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی۔ بعض نے کہا: شاید اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو مسلمان گھرانوں میں پیدا ہوئے، انہوں نے کبھی کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہرایا۔ اس طرح لوگوں نے مختلف آراء کا ذکر کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا تم لوگ کس بارے میں غور و فکر کر رہے ہو۔ لوگوں نے اپنی گفتگو کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ وہ لوگ ہوں گے جو (علاج کے طور پر) داغ نہیں لگاتے ہوں گے (غیر شرعی الفاظ کے ذریعے) دم نہیں کرتے ہوں گے۔ اور فال نہیں نکالتے ہوں گے اور اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہوں گے۔ سیدنا عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! (آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیجئے) کہ میں ان لوگوں میں شامل ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان میں شامل ہو، پھر ایک اور صاحب کھڑے ہوئے (یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیجئے) کہ میں ان میں شامل ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عکاشہ تم سے سبقت لے گیا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6430
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح الأدب المفرد» (700/ 911): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
حدیث تخریج «رقم طبعة با وزير 6396»
حدیث نمبر: 6431
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السِّخْتِيَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَالْعَلاءِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : تَحَدَّثْنَا عِنْدَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى أَكْرَيْنَا الْحَدِيثَ ، ثُمَّ تَرَاجَعْنَا إِِلَى الْبَيْتِ ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا غَدَوْنَا إِِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ : " عُرِضَتْ عَلَيَّ الأَنْبِيَاءُ اللَّيْلَةَ بِأَتْبَاعِهَا مِنْ أُمَّتِهَا ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ يَجِيءُ وَمَعَهُ الثَّلاثَةُ مِنْ قَوْمِهِ ، وَالنَّبِيُّ يَجِيءُ وَمَعَهُ الْعِصَابَةُ مِنْ قَوْمِهِ ، وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ النَّفْرُ مِنْ قَوْمِهِ ، وَالنَّبِيُّ لَيْسَ مَعَهُ مِنْ قَوْمِهِ أَحَدٌ ، حَتَّى أَتَى عَلَيَّ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ فِي كَبْكَبَةٍ مِنْ بَنِي إِِسْرَائِيلَ ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ ، أَعْجَبُونِي ، فَقُلْتُ : يَا رَبِّ ، مَنْ هَؤُلاءِ ؟ قَالَ : هَذَا أَخُوكَ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ ، قَالَ : وَإِِذَا ظِرَابٌ مِنْ ظِرَابِ مَكَّةَ قَدْ سَدَّ وُجُوهَ الرِّجَالِ ، قُلْتُ : رَبِّ ، مَنْ هَؤُلاءِ ؟ ، قَالَ : أُمَّتُكَ ، قَالَ : فَقِيلَ لِي : رَضِيتَ ؟ ، قَالَ : قُلْتُ : رَبِّ رَضِيتُ ، رَبِّ رَضِيتُ ، قَالَ : ثُمَّ قِيلَ لِي : إِِنَّ مَعَ هَؤُلاءِ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ لا حِسَابَ عَلَيْهِمْ " ، قَالَ : فَأَنْشَأَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ أَخُو بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، ادْعُ رَبَّكَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ ، اجْعَلْهُ مِنْهُمْ " ، قَالَ : ثُمَّ أَنْشَأَ رَجُلٌ آخَرُ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، ادْعُ رَبَّكَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، فَقَالَ : " سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ " ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِدَاكُمْ أَبِي وَأُمِّي ، إِِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَكُونُوا مِنَ السَّبْعِينَ فَكُونُوا ، فَإِِنْ عَجَزْتُمْ وَقَصَّرْتُمْ ، فَكُونُوا مِنْ أَهْلِ الظِّرَابِ ، فَإِِنْ عَجَزْتُمْ وَقَصَّرْتُمْ ، فَكُونُوا مِنْ أَهْلِ الأُفُقِ ، فَإِِنِّي رَأَيْتُ ثَمَّ أُنَاسًا يَتَهَرَّشُونَ كَثِيرًا " ، قَالَ : فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِنِّي لأَرْجُو أَنْ يَكُونَ مَنْ تَبِعَنِي مِنْ أُمَّتِي رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ " ، قَالَ : فَكَبَّرْنَا ، ثُمَّ قَالَ : " إِِنِّي لأَرْجُو أَنْ يَكُونُوا الثُّلُثَ " ، قَالَ : فَكَبَّرْنَا ، ثُمَّ قَالَ : " إِِنِّي لأَرْجُو أَنْ يَكُونَ الشَّطْرَ " ، قَالَ : فَكَبَّرْنَا ، فَتَلا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ثُلَّةٌ مِنَ الأَوَّلِينَ وَثُلَّةٌ مِنَ الآخِرِينَ سورة الواقعة آية 39 - 40 ، قَالَ : فَتَرَاجَعَ الْمُسْلِمُونَ عَلَى هَؤُلاءِ السَّبْعِينَ ، فَقَالُوا : نَرَاهُمْ أُنَاسًا وُلِدُوا فِي الإِِسْلامِ ، ثُمَّ لَمْ يَزَالُوا يَعْمَلُونَ بِهِ حَتَّى مَاتُوا عَلَيْهِ ، قَالَ : فَنَمَى حَدِيثُهُمْ إِِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ كَذَلِكَ ، وَلَكِنَّهُمُ الَّذِينَ لا يَسْتَرْقُونَ ، وَلا يَكْتَوُونَ ، وَلا يَتَطَيَّرُونَ ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ " ، قَالَ الشَّيْخُ : أَكْرَيْنَا : أَخَّرَنَا .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک رات ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے بات چیت کر رہے تھے، یہاں تک کہ ہماری بات چیت طویل ہو گئی، پھر ہم اپنے گھر واپس آ گئے۔ اگلے دن صبح جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے سامنے گزشتہ رات انبیاء اور ان کی امت سے تعلق رکھنے والے پیروکار لوگوں کو پیش کیا گیا، تو کوئی ایک نبی آیا اس کے ساتھ اس کی قوم کے تین افراد تھے۔ ایک نبی آئے ان کے ساتھ ان کی قوم کا ایک گروہ تھا۔ ایک نبی آئے ان کے ساتھ ان کی قوم کے کچھ لوگ تھے۔ ایک نبی آئے ان کے ساتھ ان کی قوم کا کوئی بھی فرد نہیں تھا، یہاں تک کہ سیدنا موسیٰ بن عمران علیہ السلام بنی اسرائیل کے ہجوم میں میرے سامنے آئے، جب میں نے ان لوگوں کو دیکھا تو (ان کی کثرت) مجھے اچھی لگی، میں نے دریافت کیا: اے میرے پروردگار! یہ کون لوگ ہیں؟ تو پروردگار نے فرمایا: یہ تمہارے بھائی موسیٰ بن عمران ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اسی دوران مکہ کا ایک چھوٹا پہاڑ لوگوں کے چہروں سے بھر گیا۔ میں نے دریافت کیا: یہ کون لوگ ہیں؟ اے میرے پروردگار! اس نے فرمایا: یہ تمہاری امت ہے۔ مجھ سے دریافت کیا گیا کہ کیا تم راضی ہو، تو میں نے جواب دیا: اے میرے پروردگار میں راضی ہوں۔ اے میرے پروردگار میں راضی ہوں، پھر مجھے بتایا: ان لوگوں کے ہمراہ ستر ہزار ایسے لوگ بھی جنت میں داخل ہوں گے جن سے کوئی حساب نہیں لیا جائے گا۔
راوی کہتے ہیں تو اسی دوران بنو اسد بن خزیمہ سے تعلق رکھنے والے سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ اپنے پروردگار سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے ان میں شامل کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: اے اللہ اسے ان میں شامل کر لے۔ راوی کہتے ہیں: پھر ایک اور شخص کھڑا ہوا۔ اس نے عرض کی: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے ان میں شامل کر لے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عکاشہ اس حوالے سے تم سے آگے نکل گیا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں اگر تم اس بات کی استطاعت رکھتے ہو کہ تم ان ستر ہزار لوگوں میں شامل ہو، تو تم ایسا کر لو اور اگر تم اس حوالے سے عاجز آ جاتے ہو اور کوتاہی کے مرتکب ہوتے ہو، تو کم از کم تم چھوٹے پہاڑ پر موجود افراد میں شامل ہو جانا (جو مجھے خواب میں دکھائے گئے تھے) کیونکہ میں نے وہاں ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جو ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے۔
راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے یہ امید ہے کہ میری امت سے تعلق رکھنے والے میرے پیروکار اہل جنت کا ایک چوتھائی حصہ ہوں گے۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے اللہ اکبر کہا: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ امید ہے کہ وہ لوگ ایک تہائی حصہ ہوں گے۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے تکبیر کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے یہ امید ہے کہ وہ لوگ نصف ہوں گے، تو ہم نے تکبیر کہی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی۔ ” پہلے والوں میں سے بھی بہت سے لوگ اور بعد والوں میں سے بھی بہت سے لوگ۔ “
راوی بیان کرتے ہیں: پھر مسلمانوں نے ان ستر ہزار لوگوں کے بارے میں گفتگو شروع کی۔ انہوں نے کہا: ہم یہ سجھتے ہیں اس سے مراد وہ لوگ ہوں گے جو زمانہ اسلام میں پیدا ہوئے اور ساری زندگی اسلام کے احکام پر عمل کرتے رہے، یہاں تک کہ مسلمان ہونے کے عالم میں فوت ہوئے۔ راوی کہتے ہیں: ان لوگوں کی بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایسا نہیں ہے بلکہ یہ وہ لوگ ہیں (جو غیر شرعی الفاظ کے ذریعے) دم نہیں کرتے (علاج کے طور پر) داغ نہیں لگواتے، فال نہیں نکالتے اور اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہیں۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) لفظ اکرینا کا مطلب ہے ہم نے مؤخر کر دیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6431
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر التعليق المتقدم على الحديث من طريق آخر (6052). تنبيه هام!! في «طبعة باوزير» الراوي عن «ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ» هو «شعبة» بدلا من «سَعِيدٍ» وكتب الشيخ الألباني تعليق على هذا الراوي فقال: [قال محقق الأصل: سعيد؛ كذا في الهامش. قلت: وكذا في «الموارد» (2645)، و «كشف الأستار» (4/ 203)]. تنبيه!! رقم (6052) = (6084) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
حدیث تخریج «رقم طبعة با وزير 6397»