کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر خبر جو علم کی صنعت میں ماہر کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ انس کی ہمارے ذکر کردہ خبر کے خلاف ہے
حدیث نمبر: 6357
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، وَإِِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، وَمَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، " أَنَّ أَمْوَالَ بَنِي النَّضِيرِ كَانَتْ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا لَمْ يُوجِفِ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ وَلا رِكَابٍ ، فَكَانَتْ لَهُ خَالِصَةٌ ، فَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ مِنْهَا نَفَقَةَ سَنَتِهِ ، وَمَا بَقِيَ جَعَلَهُ فِي الْكُرَاعِ وَالسِّلاحِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بنو نضیر کی زمینیں وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مال فے کے طور پر عطا کی تھی۔ مسلمانوں نے ان کے حصول کے لئے گھوڑے اور سواریاں نہیں دوڑائے تھے، تو یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مخصوص تھیں آپ ان میں سے اپنے اہل خانہ کے سال بھر کا خرچ حاصل کرتے تھے اور جو باقی بچ جاتا تھا وہ اللہ کی راہ میں ساز و سامان اور اسلحے کے لئے استعمال کرتے تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6357
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2626). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
حدیث تخریج «رقم طبعة با وزير 6323»