کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر کہ کلیم اللہ نے اپنے رب سے جنت کے سب سے نچلے اور سب سے بلند مرتبہ کے بارے میں پوچھا
حدیث نمبر: 6216
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبِجَ ، حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبْجَرَ شَيْخَانِ صَالِحَانِ ، سَمِعَا الشَّعْبِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِنَّ مُوسَى سَأَلَ رَبَّهُ : أَيُّ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَدْنَى مَنْزِلَةً ؟ ، قَالَ : رَجُلٌ يَجِيءُ بَعْدَمَا يَدْخُلُ ، يَعْنِي : أَهْلَ الْجَنَّةِ ، الْجَنَّةَ ، فَيُقَالُ : ادْخُلِ الْجَنَّةَ ، فَيَقُولُ : كَيْفَ أَدْخَلُ الْجَنَّةَ وَقَدْ نَزَلَ النَّاسُ مَنَازِلَهُمْ ، وَأَخَذُوا أَخَذَاتِهِمْ ؟ ، فَيَقُولُ لَهُ : أَتَرْضَى أَنْ يَكُونَ لَكَ مِنَ الْجَنَّةِ مِثْلُ مَا كَانَ لِمَلِكٍ مِنْ مُلُوكِ الدُّنْيَا ؟ ، فَيَقُولُ : نَعَمْ أَيْ رَبِّ ، فَيُقَالُ : لَكَ هَذَا وَمِثْلُهُ ، وَمِثْلُهُ ، وَمِثْلُهُ ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، رَضِيتُ ، فَيُقَالُ لَهُ : إِِنَّ لَكَ هَذَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهِ ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، رَضِيتُ ، فَيُقَالُ لَهُ : لَكَ مَعَ هَذَا مَا اشْتَهَتْ نَفْسُكَ ، وَلَذَّتْ عَيْنُكَ ، وَسَأَلَ رَبَّهُ : أَيُّ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَرْفَعُ مَنْزِلَةً ؟ ، قَالَ : سَأُحَدِّثُكَ عَنْهُمْ ، غَرَسْتُ كَرَامَتَهُمْ بِيَدِي ، وَخَتَمْتُ عَلَيْهَا ، فَلا عَيْنٌ رَأَتْ ، وَلا أُذُنٌ سَمِعَتْ ، وَلا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ ، وَمِصْدَاقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى : فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ سورة السجدة آية 17 " .
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے منبر پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا: سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے سوال کیا اہل جنت کا کون سا فرد جنت میں سب سے کم تر درجے میں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے بتایا: وہ ایک ایسا شخص ہو گا جو اہل جنت کے جنت میں داخل ہو جانے کے بعد آئے گا اور اس سے کہا: جائے گا تم جنت میں داخل ہو جاؤ وہ عرض کرے گا میں کیسے جنت میں داخل ہوں گا جب کہ لوگ اپنی جگہوں پر پہنچ چکے ہیں اور انہوں نے اپنے حصے کی جگہ حاصل کر لی ہے، تو پروردگار اس سے دریافت کرے گا: کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہیں جنت میں اتنی جگہ دیدی جائے جتنی کسی دنیاوی بادشاہ کے پاس ہوتی تھی وہ کہے گا جی ہاں اے میرے پروردگار (میں راضی ہوں) تو یہ کہا: جائے گا تمہیں یہ بھی ملتی ہے اور اس کی مانند مزید اور اس کی مانند مزید اس کی مانند مزید (یعنی مزید تین گنا اور ملتی ہے) تو وہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار میں راضی ہوں، تو اس سے کہا: جائے گا تمہیں اس کی دس گنا مزید ملتی ہے وہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار میں راضی ہو گیا۔ تو اس سے کہا: جائے گا تمہیں اس کے ہمراہ وہ چیز بھی ملتی ہے جس کی تمہارے نفس کو خواہش تھی یا جو تمہاری آنکھوں کو لذت فراہم کرے گی۔ پھر سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے دریافت کیا اہل جنت میں سب سے بلند مرتبہ کس شخص کا ہو گا۔ پروردگار نے فرمایا: میں تمہیں اس بارے میں بتاتا ہوں میں نے اپنے دست قدرت کے ذریعے ان کی عزت افزائی کی ہے اس پر مہر لگا دی ہے (انہیں ایسی نعمتیں ملیں گی) جو کسی آنکھ نے دیکھی نہیں کسی کان نے ان کے بارے میں سنا نہیں اور کسی انسان کے ذہن میں ان کا خیال تک نہیں آیا ہو گا۔ اس کا مصداق اللہ کی کتاب میں (ان الفاظ میں) موجود ہے۔ ” کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا چیز پوشیدہ رکھی گئی ہے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6216
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3503): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
حدیث تخریج «رقم طبعة با وزير 6183»