کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر وجہ جس کی بنا پر اللہ جل وعلا نے "نحن نقص عليك أحسن القصص" نازل کیا
حدیث نمبر: 6209
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلادٌ الصَّفَّارُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلائِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَلا عَلَيْهِمْ زَمَانًا ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ قَصَصْتَ عَلَيْنَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ سورة يوسف آية 1 إِِلَى قَوْلِهِ : نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ سورة يوسف آية 3 ، " فَتَلاهَا عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَانًَا ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ حَدَّثْتَنَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُتَشَابِهًا سورة الزمر آية 23 ، كُلُّ ذَلِكَ يُؤْمَرُونَ بِالْقُرْآنِ " ، قَالَ خَلادٌ : " وَزَادَ فِيهِ حِينَ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ذَكِّرْنَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ سورة الحديد آية 16 " .
مصعب بن سعد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہوتا رہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم طویل عرصے تک لوگوں کے سامنے اس کی تلاوت کرتے رہے لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سامنے کوئی واقعہ بیان کریں (تو مہربانی ہو گی) تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ «الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ» یہ آیت یہاں تک ہے۔ ”ہم تمہارے سامنے بہترین قصہ بیان کر رہے ہیں۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت ایک طویل عرصے تک لوگوں کے سامنے تلاوت کی پھر لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کوئی بات بتائیں (تو مہربانی ہو گی) تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ اللہ تعالیٰ نے سب سے بہترین بات کتاب کی شکل میں نازل کی ہے جس میں متشابہات ہیں۔ تو ان سب کو قرآن کے مطابق حکم دیا جاتا تھا۔
خلاد نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں: جب لوگوں نے یہ عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کوئی نصیحت کیجئے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ کیا اہل ایمان پر ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے قلوب اللہ کے ذکر کے لیے خوف زدہ ہو جائیں۔
خلاد نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں: جب لوگوں نے یہ عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کوئی نصیحت کیجئے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ کیا اہل ایمان پر ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے قلوب اللہ کے ذکر کے لیے خوف زدہ ہو جائیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6209
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر التعليق. * [حِينَ] قال الشيخ: في «الموارد»؛ (حسن)! والظاهر أنه مُحرّف عمّا هنا؛ فليس في الإسناد أحد بهذا الأسم! والراجح أنه آخر؛ فقد رأيت الحديث في أسباب النزول للواحدي (ص 304) رواه من طريق إسحاق بن إبراهيم - الذي في الكتاب؛ وهو ابن راهويه - ... باللفظ المذكور. وكذلك رواه ابن جرير في «التفسير» (12/ 90) من طريق آخر، عن عمرو بن محمد ... به - وهو العنقزي -. وخلاد: هو ابن عيسى أبو مسلم، وهو ثقة. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
حدیث تخریج «رقم طبعة با وزير 6176»