کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر بیان کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثمود کی زمین سے اس کے پانی سے نفع اٹھانے کی ناپسندیدگی کی وجہ سے سفر کیا
حدیث نمبر: 6203
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَامَ تَبُوكَ بِالْحِجْرِ عِنْدَ بُيُوتِ ثَمُودَ ، فَاسْتَقَى النَّاسُ مِنَ الآبَارِ الَّتِي كَانَتْ تَشْرَبُ مِنْهَا ثَمُودُ ، فَنَصَبُوا الْقُدُورَ ، وَعَجَنُوا الدَّقِيقَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اكْفِئُوا الْقُدُورَ ، وَاعْلِفُوا الْعَجِينَ الإِِبِلَ " ، ثُمَّ ارْتَحَلَ ، حَتَّى نَزَلَ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي كَانَتْ تَشْرَبُ مِنْهُ النَّاقَةُ ، وَقَالَ : " لا تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلاءِ الْقَوْمِ الَّذِينَ عُذِّبُوا ، فَيُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: غزوہ تبوک کے سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر کے مقام پر قوم ثمود کے علاقے کے قریب پڑاؤ کیا لوگوں نے وہاں کے کنوؤں سے پانی حاصل کر لیا، جہاں سے قوم ثمود کے لوگ پانی پیا کرتے تھے، لوگوں نے وہاں ہنڈیا بھی چڑھائی وہاں آٹا بھی گوندھ لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ہنڈیا کو الٹا دو اور آٹا اونٹوں کو کھلا دو، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہوئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ پڑاؤ کیا جہاں سے (سیدنا صالح علیہ السلام کی) اونٹنی پانی پیا کرتی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اس عذاب یافتہ قوم کے علاقے میں داخل نہ ہو، کہیں تمہیں بھی وہ عذاب لاحق نہ ہو جو انہیں لاحق ہوا تھا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6203
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» - أيضا -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
حدیث تخریج «رقم طبعة با وزير 6170»