کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر وصف کہ سورج ہر رات عرش کے نیچے ٹھہرتا ہے
حدیث نمبر: 6153
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَنْبَأَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " أَتَدْرُونَ أَيْنَ تَذْهَبُ الشَّمْسُ ؟ " ، قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " فَإِِنَّهَا تَجْرِي حَتَّى تَنْتَهِيَ إِِلَى مُسْتَقَرِّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ ، فَتَخِرَّ سَاجِدَةً ، فَلا تَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يُقَالَ لَهَا : ارْتَفِعِي ، ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ ، فَتَرْجِعُ ، فَتَطْلُعُ طَالِعَةً مِنْ مَطْلِعِهَا ، ثُمَّ تَجِيءُ حَتَّى تَنْتَهِيَ إِِلَى مُسْتَقَرِّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ ، فَتَخِرَّ سَاجِدَةً ، فَلا تَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يُقَالَ لَهَا : ارْتَفِعِي ، ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ ، فَتَرْجِعُ ، فَتَطْلُعُ طَالِعَةً مِنْ مَطْلِعِهَا ، ثُمَّ تَجِيءُ حَتَّى تَنْتَهِيَ إِِلَى مُسْتَقَرِّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ ، فَتَخِرَّ سَاجِدَةً ، فَلا تَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يُقَالَ لَهَا : ارْتَفِعِي ، ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ ، فَتَرْجِعُ ، فَتَطْلُعُ مِنْ مَطْلِعِهَا ، ثُمَّ تَجْرِي لا يَسْتَنْكِرُ النَّاسُ مِنْهَا شَيْئًا ، حَتَّى تَنْتَهِي إِِلَى مُسْتَقَرِّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ ، فَيُقَالُ لَهَا : ارْتَفِعِي ، فَاطْلُعِي مِنْ مَغْرِبِكِ ، فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا " ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَدْرُونَ مَتَى ذَلِكَ ؟ حِينَ لا يَنْفَعُ نَفْسًا إِِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِِيمَانِهَا خَيْرًا " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَكَذَا قَالَ إِِسْحَاقُ : عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، وَالْمَشْهُورُ هَذَا الْخَبَرُ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ جانتے ہو سورج کہاں جاتا ہے۔ لوگوں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ چلتا رہتا ہے، یہاں تک کہ یہ عرش کے نیچے اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچ جاتا ہے، تو سجدے میں گر جاتا ہے اس کے بعد یہ اسی حالت میں رہتا ہے، یہاں تک کہ اسے یہ کہا: جاتا ہے تم اپنے سر کو اٹھاؤ اور وہاں واپس چلے جاؤ جہاں سے تم آئے ہو، تو وہ واپس آتا ہے اور اپنے طلوع ہونے کی جگہ سے طلوع ہوتا ہے پھر وہ آتا ہے، یہاں تک کہ اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچ جاتا ہے جو عرش کے نیچے ہے پھر وہ سجدے میں چلا جاتا ہے اور سجدے کی حالت میں رہتا ہے یہاں تک کہ اسے یہ کہا: جاتا ہے اپنا سر اٹھاؤ اور واپس اسی جگہ چلے جاؤ جہاں سے آئے ہو، تو وہ واپس آ جاتا ہے اور اپنے مخصوص مقام سے طلوع ہوتا ہے پھر وہ آتا ہے اور عرش کے نیچے اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچ جاتا ہے اور سجدے میں چلا جاتا ہے پھر وہ اسی حالت میں رہتا ہے، یہاں تک کہ اسے یہ کہا: جاتا ہے تم اپنے سر کو اٹھاؤ اور جہاں سے آئے ہو وہاں واپس چلے جاؤ وہ واپس چلا جاتا ہے اور اپنے مخصوص مقام سے طلوع ہوتا ہے پھر وہ چلتا رہتا ہے۔ لوگوں کو اس میں کوئی خرابی نظر نہیں آتی، یہاں تک کہ ایک مرتبہ وہ عرش کے نیچے اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچے گا تو اسے کہا: جائے گا تم سر کو اٹھاؤ اور مغرب کی طرف سے طلوع ہو جاؤ، تو وہ مغرب کی طرف سے طلوع ہو جائے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم لوگ جانتے ہو ایسا کب ہو گا؟ اس وقت جب کسی ایسے شخص کو ایمان لانا فائدہ نہیں دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا تھا جس نے اپنے ایمان میں بھلائی نہیں کمائی تھی۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اسحاق نامی راوی نے یہ روایت اسی طرح یونس بن عبید کے حوالے سے ابراہیم تیمی سے نقل کی ہے، حالانکہ مشہور یہ ہے کہ یہ روایت یونس بن خباب کے حوالے سے ابراہیم تیمی سے منقول ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6153
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
حدیث تخریج «رقم طبعة با وزير 6120»