مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1462
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ الْقَاسِمِ مَوْلَى مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : كُنْتُ أَقُودُ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ فِي السَّفَرِ ، فَقَالَ لِي : " يَا عُقْبَةُ ، أَلَا أُعَلِّمُكَ خَيْرَ سُورَتَيْنِ قُرِئَتَا ؟ " فَعَلَّمَنِي : قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ قَالَ : فَلَمْ يَرَنِي سُرِرْتُ بِهِمَا جِدًّا ، فَلَمَّا نَزَلَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ صَلَّى بِهِمَا صَلَاةَ الصُّبْحِ لِلنَّاسِ ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ الْتَفَتَ إِلَيَّ ، فَقَالَ : " يَا عُقْبَةُ كَيْفَ رَأَيْتَ ؟ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ کی نکیل پکڑ کر چل رہا تھا، آپ نے فرمایا: ” عقبہ! کیا میں تمہیں دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں؟ “، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» سکھائیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان دونوں (کے سیکھنے) سے بہت زیادہ خوش ہوتے نہ پایا، چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کے لیے (سواری سے) اترے تو لوگوں کو نماز پڑھائی اور یہی دونوں سورتیں پڑھیں، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ” عقبہ! تم نے انہیں کیا سمجھا ہے ۱؎ “۔
وضاحت:
۱؎: انہیں معمولی اور حقیر سمجھ رہے ہو، حالانکہ یہ بڑے کام کی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بلاؤں اور جادو سے نجات پانے کے لئے یہ سورتیں پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1462
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (848), أخرجه النسائي (5438 وسنده حسن)
حدیث تخریج « تفرد بہ ابوداود ، (تحفة الأشراف:9946)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 46 (814)، سنن الترمذی/فضائل القرآن 12 (2902)، قیام اللیل (1337)، ن الکبری/الاستعاذة (7848)، مسند احمد (4/144، 149، 151، 153)، سنن الدارمی/فضائل القرآن 24 (3482) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1463
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : بَيْنَا أَنَا أَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْجُحْفَةِ ، وَالْأَبْوَاءِ ، إِذْ غَشِيَتْنَا رِيحٌ وَظُلْمَةٌ شَدِيدَةٌ ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ بِ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ، وَيَقُولُ : " يَا عُقْبَةُ ، تَعَوَّذْ بِهِمَا ، فَمَا تَعَوَّذَ مُتَعَوِّذٌ بِمِثْلِهِمَا " قَالَ : وَسَمِعْتُهُ يَؤُمُّنَا بِهِمَا فِي الصَّلَاةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں حجفہ اور ابواء کے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا کہ اسی دوران اچانک ہمیں تیز آندھی اور شدید تاریکی نے ڈھانپ لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» پڑھنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ” اے عقبہ! تم بھی ان دونوں کو پڑھ کر پناہ مانگو، اس لیے کہ ان جیسی سورتوں کے ذریعہ پناہ مانگنے والے کی طرح کسی پناہ مانگنے والے نے پناہ نہیں مانگی “۔ عقبہ کہتے ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ انہیں دونوں کے ذریعہ ہماری امامت فرما رہے تھے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1463
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن إسحاق مدلس وعنعن, والحديث السابق (الأصل : 1462) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 58
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:9952) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔