مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: نماز میں دیر تک قیام کا بیان۔
حدیث نمبر: 1449
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ،عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ الْخَثْعَمِيِّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ : أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " طُولُ الْقِيَامِ " قِيلَ : فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " جَهْدُ الْمُقِلِّ " قِيلَ : فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " مَنْ هَجَرَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ " قِيلَ : فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " مَنْ جَاهَدَ الْمُشْرِكِينَ بِمَالِهِ وَنَفْسِهِ " قِيلَ : فَأَيُّ الْقَتْلِ أَشْرَفُ ؟ قَالَ : " مَنْ أُهَرِيقَ دَمُهُ وَعُقِرَ جَوَادُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن حبشی خثعمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نماز میں دیر تک کھڑے رہنا “ ، پھر پوچھا گیا : کون سا صدقہ افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کم مال والا محنت کی کمائی میں سے جو صدقہ دے “ ، پھر پوچھا گیا : کون سی ہجرت افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس شخص کی ہجرت جو ان چیزوں کو چھوڑ دے جنہیں اللہ نے اس پر حرام کیا ہے “ ، پھر پوچھا گیا : کون سا جہاد افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس شخص کا جہاد جس نے اپنی جان و مال کے ساتھ مشرکین سے جہاد کیا ہو “ ، پھر پوچھا گیا : کون سا قتل افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کی راہ میں جس کا خون بہایا گیا ہو اور جس کے گھوڑے کے ہاتھ پاؤں کاٹ لیے گئے ہوں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1449
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح بلفظ أي الصلاة , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (3833), أخرجه النسائي (2527 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (1325)
حدیث تخریج « انظرحدیث رقم : (1325)، (تحفة الأشراف:5241) (صحیح ) بلفظ : ’’ أي الصلاة ‘‘ »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔