مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: وتر دوبارہ نہ پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1439
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، قَالَ : زَارَنَا طَلْقُ بْنُ عَلِيٍّ فِي يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ ، وَأَمْسَى عِنْدَنَا وَأَفْطَرَ ، ثُمَّ قَامَ بِنَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَأَوْتَرَ بِنَا ، ثُمَّ انْحَدَرَ إِلَى مَسْجِدِهِ فَصَلَّى بِأَصْحَابِهِ حَتَّى إِذَا بَقِيَ الْوِتْرُ قَدَّمَ رَجُلًا ، فَقَالَ : أَوْتِرْ بِأَصْحَابِكَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا وِتْرَانِ فِي لَيْلَةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قیس بن طلق کہتے ہیں کہ` طلق بن علی رضی اللہ عنہ رمضان میں ایک دن ہمارے پاس آئے ، شام تک رہے روزہ افطار کیا ، پھر اس رات انہوں نے ہمارے ساتھ قیام اللیل کیا ، ہمیں وتر پڑھائی پھر اپنی مسجد میں گئے اور اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی یہاں تک کہ جب صرف وتر باقی رہ گئی تو ایک شخص کو آگے بڑھایا اور کہا : اپنے ساتھیوں کو وتر پڑھاؤ ، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا ہے کہ ” ایک رات میں دو وتر نہیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1439
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, أخرجه الترمذي (470 وسنده صحيح) والنسائي (1680 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (1101 وسنده صحيح)
حدیث تخریج « سنن الترمذی/الصلاة 227 (الوتر13) (470)، سنن النسائی/قیام اللیل 27 (1680)، (تحفة الأشراف:5024)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/23) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔