مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: سونے سے پہلے وتر پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1432
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ فِي سَفَرٍ وَلَا حَضَرٍ : رَكْعَتَيِ الضُّحَى ، وَصَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ ، وَأَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` مجھے میرے خلیل ( یار ، صادق ، محمد ) صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کی وصیت کی ہے ، جن کو میں سفر اور حضر کہیں بھی نہیں چھوڑتا : چاشت کی دو رکعتیں ، ہر ماہ تین دن کے روزے اور وتر پڑھے بغیر نہ سونے کی ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ نصیحت اس وجہ سے فرمائی کہ وہ بڑی رات تک حدیثوں کے سننے میں مشغول رہتے تھے اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اندیشہ ہوا کہ سو جانے کے بعد ان کی وتر قضا نہ ہو جایا کرے، اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سو جانے سے پہلے وتر پڑھ لینے کی نصیحت کی۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1432
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح ق دون قوله في سفر ولا حضر , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, قتادة عنعن و أبو سعيد الأزدي مجھول الحال, و أحاديث البخاري (1178،1981) و مسلم (721) تغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 58
حدیث تخریج « تفرد بہ ابوداود ، (تحفة الأشراف:14940)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التہجد 33 (1178)، والصیام60 (1981)، صحیح مسلم/المسافرین 13 (721)، سنن النسائی/قیام اللیل 26 (1678)، والصیام 70 (2371)، 81 (2407)، مسند احمد (2/229، 233، 254، 258، 260، 265، 271، 277، 329)، سنن الدارمی/الصلاة 151 (1495)، والصوم 38 (1786) (صحیح) دون قولہ : ’’ في سفر ولاحضر‘‘ »
حدیث نمبر: 1433
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ السَّكُونِيِّ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : " أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ لِشَيْءٍ : أَوْصَانِي بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، وَلَا أَنَامُ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ ، وَبِسُبْحَةِ الضُّحَى فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` مجھے میرے خلیل ( محمد ) صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کی وصیت کی ہے ، میں انہیں کسی صورت میں نہیں چھوڑتا ، ایک تو مجھے ہر ماہ تین دن روزے رکھنے کی وصیت کی دوسرے وتر پڑھے بغیر نہ سونے کی اور تیسرے حضر ہو کہ سفر ، چاشت کی نماز پڑھنے کی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1433
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح دون قوله في الحضر والسفر , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, صفوان سمعه من بعض المشيخة عن أبي إدريس كما في مسند أحمد (6/ 440) وحديث مسلم (722) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 58
حدیث تخریج « تفرد بہ ابوداود ، (تحفة الأشراف:10925)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 13(722)، مسند احمد (6/440، 451) (صحیح) » (مگر «حضر و سفر» کا لفظ صحیح نہیں ہے ، اور یہ مسلم میں موجود نہیں ہے)
حدیث نمبر: 1434
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ : " مَتَى تُوتِرُ " ، قَالَ : أُوتِرُ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ ، وَقَالَ لِعُمَرَ : " مَتَى تُوتِرُ " ، قَالَ : آخِرَ اللَّيْلِ ، فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ : " أَخَذَ هَذَا بِالْحَزْمِ " ، وَقَالَ لِعُمَرَ : " أَخَذَ هَذَا بِالْقُوَّةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا : ” تم وتر کب پڑھتے ہو ؟ “ ، انہوں نے عرض کیا : میں اول شب میں وتر پڑھتا ہوں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا : ” تم کب پڑھتے ہو ؟ “ ، انہوں نے عرض کیا : آخر شب میں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر سے فرمایا کہ انہوں نے احتیاط پر عمل کیا ، اور عمر سے فرمایا کہ انہوں نے مشکل کام اختیار کیا جو طاقت و قوت کا متقاضی ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: جس کو اپنے اوپر اعتماد ہو کہ اخیر رات میں جاگ جائے گا اس کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ اخیر رات میں وتر پڑھے، لیکن جسے اخیر رات میں جاگنے پر بھروسہ نہ ہو اس کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ سونے سے پہلے وتر پڑھ لے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1434
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, صححه ابن خزيمة (1084 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (1329)
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:12092) (صحیح) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔