حدیث نمبر: 1432
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ فِي سَفَرٍ وَلَا حَضَرٍ : رَكْعَتَيِ الضُّحَى ، وَصَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ ، وَأَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` مجھے میرے خلیل ( یار ، صادق ، محمد ) صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کی وصیت کی ہے ، جن کو میں سفر اور حضر کہیں بھی نہیں چھوڑتا : چاشت کی دو رکعتیں ، ہر ماہ تین دن کے روزے اور وتر پڑھے بغیر نہ سونے کی ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ نصیحت اس وجہ سے فرمائی کہ وہ بڑی رات تک حدیثوں کے سننے میں مشغول رہتے تھے اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اندیشہ ہوا کہ سو جانے کے بعد ان کی وتر قضا نہ ہو جایا کرے، اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سو جانے سے پہلے وتر پڑھ لینے کی نصیحت کی۔
حدیث نمبر: 1433
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ السَّكُونِيِّ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : " أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ لِشَيْءٍ : أَوْصَانِي بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، وَلَا أَنَامُ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ ، وَبِسُبْحَةِ الضُّحَى فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` مجھے میرے خلیل ( محمد ) صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کی وصیت کی ہے ، میں انہیں کسی صورت میں نہیں چھوڑتا ، ایک تو مجھے ہر ماہ تین دن روزے رکھنے کی وصیت کی دوسرے وتر پڑھے بغیر نہ سونے کی اور تیسرے حضر ہو کہ سفر ، چاشت کی نماز پڑھنے کی ۔
حدیث نمبر: 1434
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ : " مَتَى تُوتِرُ " ، قَالَ : أُوتِرُ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ ، وَقَالَ لِعُمَرَ : " مَتَى تُوتِرُ " ، قَالَ : آخِرَ اللَّيْلِ ، فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ : " أَخَذَ هَذَا بِالْحَزْمِ " ، وَقَالَ لِعُمَرَ : " أَخَذَ هَذَا بِالْقُوَّةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا : ” تم وتر کب پڑھتے ہو ؟ “ ، انہوں نے عرض کیا : میں اول شب میں وتر پڑھتا ہوں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا : ” تم کب پڑھتے ہو ؟ “ ، انہوں نے عرض کیا : آخر شب میں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر سے فرمایا کہ انہوں نے احتیاط پر عمل کیا ، اور عمر سے فرمایا کہ انہوں نے مشکل کام اختیار کیا جو طاقت و قوت کا متقاضی ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: جس کو اپنے اوپر اعتماد ہو کہ اخیر رات میں جاگ جائے گا اس کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ اخیر رات میں وتر پڑھے، لیکن جسے اخیر رات میں جاگنے پر بھروسہ نہ ہو اس کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ سونے سے پہلے وتر پڑھ لے۔