حدیث نمبر: 1419
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الطَّالْقَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَتَكِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ،عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا ، الْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا ، الْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” وتر حق ہے ۱؎ جو اسے نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ، وتر حق ہے ، جو اسے نہ پڑھے ہم میں سے نہیں ، وتر حق ہے ، جو اسے نہ پڑھے ہم سے نہیں “ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ حدیث ضعیف ہے، اگر صحیح ہوتی تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ وتر کا پڑھنا ثابت ہے، اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جس کی تخریج ابن المنذر نے ان الفاظ میں کی ہے «الوتر حق وليس بواجب» یعنی وتر ایک ثابت شدہ امر ہے لیکن واجب نہیں۔
حدیث نمبر: 1420
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي كِنَانَةَ يُدْعَى الْمَخْدَجِيّ سَمِعَ رَجُلًا بِالشَّامِ يُدْعَى أَبَا مُحَمَّدٍ ، يَقُولُ : إِنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ ، قَالَ الْمَخْدَجِيُّ : فَرُحْتُ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ عُبَادَةُ : كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " خَمْسُ صَلَوَاتٍ كَتَبَهُنَّ اللَّهُ عَلَى الْعِبَادِ ، فَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ لَمْ يُضَيِّعْ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ كَانَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِ بِهِنَّ فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ ، وَإِنْ شَاءَ أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابن محیریز کہتے ہیں کہ` بنو کنانہ کے ایک شخص نے جسے مخدجی کہا جاتا تھا ، شام کے ایک شخص سے سنا جسے ابومحمد کہا جاتا تھا وہ کہہ رہا تھا : وتر واجب ہے ، مخدجی نے کہا : میں یہ سن کر عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے بیان کیا تو عبادہ نے کہا : ابو محمد نے غلط کہا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” پانچ نمازیں ہیں جو اللہ نے بندوں پر فرض کی ہیں ، پس جس شخص نے ان کو اس طرح ادا کیا ہو گا کہ ان کو ہلکا سمجھ کر ان میں کچھ بھی کمی نہ کی ہو گی تو اس کے لیے اللہ کے پاس جنت میں داخل کرنے کا عہد ہو گا ، اور جو شخص ان کو ادا نہ کرے گا تو اس کے لیے اللہ کے پاس کوئی عہد نہیں ، اللہ چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو اسے جنت میں داخل کرے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر کا ذکر نہیں کیا ہے، اگر یہ واجب ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے بھی ضرور بیان فرماتے۔