کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: فتنوں کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - ذکر بیان کہ فتنوں کے وقت انسان پر لازم ہے کہ وہ اس کی بات سنے اور اطاعت کرے جو اس پر حاکم ہو جب تک کہ وہ گناہ کا حکم نہ دے
حدیث نمبر: 5964
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الصَّامِتِ ، يَقُولُ : قَدِمَ أَبُو ذَرٍّ عَلَى عُثْمَانَ مِنَ الشَّامِ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، افْتَحِ الْبَابَ حَتَّى يَدْخُلَ النَّاسُ ، أَتَحْسِبُنِي مِنْ قَوْمٍ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، ثُمَّ لا يَعُودُونَ فِيهِ حَتَّى يَعُودَ السَّهْمُ عَلَى فُوقِهِ ؟ هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ أَمَرْتَنِي أَنْ أَقْعُدَ لَمَا قُمْتُ ، وَلَوْ أَمَرْتَنِي أَنْ أَكُونَ قَائِمًا لَقُمْتُ مَا أَمْكَنَتْنِي رِجْلايَ ، وَلَوْ رَبَطْتَنِي عَلَى بَعِيرٍ لَمْ أُطْلِقْ نَفْسِي حَتَّى تَكُونَ أَنْتَ الَّذِي تُطْلِقُنِي ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَهُ أَنْ يَأْتِيَ الرَّبَذَةَ ، فَأَذِنَ لَهُ فَأَتَاهَا ، فَإِذَا عَبْدٌ يَؤُمُّهُمْ ، فَقَالُوا : أَبُو ذَرٍّ ، فَنَكَصَ الْعَبْدُ ، فَقِيلَ لَهُ : تَقَدَّمْ ، فَقَالَ : أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلاثٍ : " أَنْ أَسْمَعَ وَأُطِيعَ ، وَلَوْ لِعَبْدٍ حَبَشِيٍّ مُجَدَّعِ الأَطْرَافِ ، وَإِذَا صَنَعْتُ مَرَقَةً فَأَكْثِرْ مَاءَهَا ، ثُمَّ انْظُرْ جِيرَانَكَ فَأَنِلْهُمْ مِنْهَا بِمَعْرُوفٍ ، وَصَلِّ الصَّلاةَ لِوَقْتِهَا ، فَإِنْ أَتَيْتَ الإِمَامَ وَقَدْ صَلَّى كُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلاتَكَ ، وَإِلا فَهِيَ لَكَ نَافِلَةٌ " .
عبداللہ بن صامت بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ شام سے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے ملنے کے لیے آئے انہوں نے کہا: اے امیر المؤمنین آپ دروازہ کھولیے تاکہ لوگ اندر آ جائیں کیا آپ مجھے ایسے لوگوں سے روک رہے ہیں جو قرآن کی تلاوت کریں گے، لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں جائے گا اور وہ دین سے یوں خارج ہو جائیں گے جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے پھر وہ اس میں دوبارہ نہیں آئیں گے جب تک تیر کمان کی طرف واپس نہیں آتا یہ ساری مخلوق کے سب سے برے فرد ہوں گے اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر آپ مجھے بیٹھنے کا حکم دیں، تو میں کھڑا نہیں رہوں گا اور اگر آپ مجھے کھڑا رہنے کا حکم دیں، تو میں کھڑا ہو جاؤں گا، جب تک میرے پاؤں میرا ساتھ دیں گے اور اگر آپ مجھے کسی اونٹ کے ساتھ باندھ دیں، تو میں خود کو کھولنے کی کوشش نہیں کروں گا، جب تک آپ خود مجھے نہیں کھولتے پھر سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے اجازت لی کہ وہ ربذہ چلے جائیں، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دیدی وہ وہاں آ گئے وہاں ایک غلام ان لوگوں کی امامت کیا کرتا تھا لوگوں نے کہا: سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ، تو غلام نے سر جھکا لیا۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے کہا: گیا آپ آگے بڑھیے (اور نماز پڑھائیے) تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے خلیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین باتوں کی تلقین کی ہے یہ کہ میں اطاعت و فرمانبرداری کروں خواہ کوئی ایسا حبشی حکمران ہو، جس کے ناک اور کان کٹے ہوئے ہوں دوسرا یہ کہ جب میں شوربا بناؤں، تو اس میں پانی زیادہ ڈال دوں اور پھر اس بات کا جائزہ لوں کہ میرے پڑوسیوں میں سے کسے بھیجا جا سکتا ہے اور (تیسری بات یہ کہ) نماز کو اس کے مخصوص وقت پر ادا کرنا پھر اگر تم امام کے پاس آؤ اور وہ تم سے پہلے نماز پڑھ چکے ہوں تو تم اپنی نماز کو محفوظ کر چکے تھے ورنہ یہ نماز تمہارے لیے نفل شمار ہو گی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرهن / حدیث: 5964
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الظلال» (2/ 501 / 1052)، «الصحيحة» (1368)، وعند (م) آخره: أوصاني ... فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
حدیث تخریج «رقم طبعة با وزير 5933»