فہرستِ ابواب

ذكر الأمر للمرء إذا أنعم الله عليه أن يرى أثر نعمته عليه-

باب: - اس باب میں بیان ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی پر نعمت فرمائے تو اسے اپنی حالت پر اس نعمت کا اثر ظاہر کرنا چاہیے۔

حدیث 5416–5416

ذكر الإخبار عما يجب على المرء من إظهار نعمة الله جل وعلا وانتفاعه بها في داريه-

باب: - اس باب میں بیان ہے کہ انسان پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اظہار کرے اور ان سے اپنے گھروں میں فائدہ اٹھائے۔

حدیث 5417–5417

ذكر الاستحباب للمرء أن ترى عليه أثر نعمة الله وإن كانت تلك النعمة في رأي العين قليلة-

باب: - اس باب میں ذکر ہے کہ انسان کے لیے مستحب ہے کہ اللہ کی نعمت کا اثر اس پر نظر آئے، خواہ وہ نعمت ظاہراً تھوڑی ہو۔

حدیث 5418–5418

ذكر البيان بأن أثر النعمة يجب أن ترى على المنعم عليه في نفسه ومواساته عما فضل إخوانه-

باب: - اس باب میں بیان ہے کہ نعمت کا اثر انسان کی ذات میں اور اپنے بھائیوں کے ساتھ خیرخواہی میں ظاہر ہونا چاہیے۔

حدیث 5419–5419

ذكر ما يقول المرء عند كسوته ثوبا استجده-

باب: - اس باب میں ذکر ہے کہ نیا لباس پہننے کے وقت انسان کو کیا کہنا چاہیے۔

حدیث 5420–5420

ذكر ما يجب على المرء أن يبتدئ بحمد الله جل وعلا عند سؤاله ربه جل وعلا ما ذكرناه-

باب: - اس باب میں ذکر ہے کہ جب بندہ اپنے رب سے کچھ مانگے تو اسے اللہ تعالیٰ کی حمد سے آغاز کرنا چاہیے۔

حدیث 5421–5421

ذكر ما يستحب للمرء عند لبسه الثياب أن يبدأ بالميامن من بدنه-

باب: - اس باب میں ذکر ہے کہ لباس پہنتے وقت دائیں جانب سے شروع کرنا مستحب ہے۔

حدیث 5422–5422

ذكر الأمر بلبس البياض من الثياب إذ البيض منها خير الثياب-

باب: - اس باب میں ذکر ہے کہ سفید کپڑے پہننے کا حکم ہے کیونکہ سفید کپڑے سب سے بہتر ہیں۔

حدیث 5423–5423

ذكر الإباحة للمرء لبس الثياب التي لها أعلام إذا كانت يسيرة لا تلهيه-

باب: - اس باب میں ذکر ہے کہ کپڑوں پر معمولی نقش و نگار یا باریک نشان رکھنے میں کوئی حرج نہیں اگر وہ انسان کو غفلت میں نہ ڈالیں۔

حدیث 5424–5424

ذكر إباحة لبس المرء العمائم السود ضد قول من كرهه من المتصوفة-

باب: - اس باب میں ذکر ہے کہ سیاہ عمامہ پہننے کی اجازت ہے، برخلاف ان صوفیوں کے قول کے جنہوں نے اسے مکروہ کہا۔

حدیث 5425–5425

ذكر الزجر عن اشتمال الصماء وعن الاحتباء في الثوب الواحد-

باب: - اس باب میں ذکر ہے کہ «اشتمالِ صمّاء» اور ایک کپڑے میں تکیہ لگاکر بیٹھنے سے منع کیا گیا ہے۔

حدیث 5426–5426

ذكر وصف اشتمال الصماء والاحتباء في الثوب الواحد اللذين نهي عنهما-

باب: - اس باب میں بیان ہے کہ اشتمالِ صمّاء اور ایک کپڑے میں بیٹھنے کی وہ صورت کیا ہے جس سے ممانعت کی گئی ہے۔

حدیث 5427–5427

ذكر الزجر عن لبس المرء ثياب الديباج مع الإخبار بإباحة الانتفاع بثمنه-

باب: - اس باب میں ذکر ہے کہ مردوں کے لیے ریشمی کپڑا پہننا حرام ہے، اگرچہ اس کی قیمت سے فائدہ اٹھانا جائز ہے۔

حدیث 5428–5428

ذكر البيان بأن من لبس الحرير في الدنيا من الرجال وهو عالم بنهي المصطفى صلى الله عليه وسلم عنه حرم لبسه في الآخرة-

باب: - اس باب میں بیان ہے کہ جو شخص رسول اللہ ﷺ کی ممانعت کے باوجود دنیا میں ریشم پہنے گا، اسے آخرت میں پہننے سے محروم رکھا جائے گا۔

حدیث 5429–5429

ذكر الوقت الذي أبيح هذا الفعل المزجور عنه فيه-

باب: - اس باب میں ذکر ہے کہ کس وقت یہ ممانعت وقتی طور پر ختم ہوئی تھی۔

حدیث 5430–5430

ذكر إباحة لبس الحرير لبعض الناس من أجل علة معلومة-

باب: - اس باب میں ذکر ہے کہ بعض مجبوری کی وجہ سے چند لوگوں کو ریشم پہننے کی اجازت دی گئی۔

حدیث 5431–5431

ذكر البيان بأن عبد الرحمن والزبير كانا في غزاة حيث رخص لهما في لبس الحرير-

باب: - اس باب میں بیان ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر رضی اللہ عنہما کو جنگ میں ریشم پہننے کی اجازت دی گئی۔

حدیث 5432–5432

ذكر البيان بأن لبس الحرير ليس من لباس المتقين-

باب: - اس باب میں بیان ہے کہ ریشم پہننا متقی لوگوں کا شیوہ نہیں۔

حدیث 5433–5434

ذكر نفي لبس الحرير في الآخرة عن لابسه في الدنيا غير من وصفنا-

باب: - اس باب میں ذکر ہے کہ جو مرد دنیا میں ریشم پہنے گا، وہ جنت میں نہیں پہن سکے گا۔

حدیث 5435–5435

ذكر تحريم الله جل وعلا لبس الحرير في الجنة على من لبسه في الدنيا من الرجال-

باب: - اس باب میں ذکر ہے کہ جو مرد دنیا میں ہر حال میں ریشم پہنتا ہے، اس کے لیے جنت میں پہننا حرام ہوگا۔

حدیث 5436–5436

ذكر البيان بأن لابس الحرير في الدنيا في كل وقت محرم لبسه في الجنة إذا دخلها-

باب: - اس باب میں ذکر ہے کہ قَسّی اور مِیثَرَہ جیسے ریشمی کپڑوں کے پہننے سے روکا گیا ہے۔

حدیث 5437–5437

ذكر الزجر عن لبس السيراء من القسي والميثرة-

باب: - اس باب میں ذکر ہے کہ ایسے لباس آخرت میں حصہ نہ رکھنے والوں کا لباس ہے۔

حدیث 5438–5438

ذكر البيان بأن لبس ما وصفنا إنما هو لبس من لا خلاق له في الآخرة-

باب: - اس باب میں ذکر ہے کہ بعض اوقات میں مردوں کو ریشم پہننے کی اجازت دی گئی۔

حدیث 5439–5440

ذكر بعض الوقت الذي أبيح لبس الحرير للرجال فيه-

باب: - اس باب میں ذکر ہے کہ جو شخص اپنا ازار (تہبند) ٹخنوں سے نیچے لٹکاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر نظر رحمت نہیں فرماتا۔

حدیث 5441–5441

ذكر الزجر عن إسبال المرء إزاره إذ الله جل وعلا لا ينظر إلى فاعله-

باب: - اس باب میں بیان ہے کہ ازار نیچے لٹکانے کی ممانعت کی علت کیا ہے۔

حدیث 5442–5442

ذكر العلة التي من أجلها زجر عن هذا الفعل-

باب: - اس باب میں وہ حدیث بیان کی گئی ہے جو اس مجمل لفظ کی تشریح کرتی ہے۔

حدیث 5443–5443

ذكر الخبر المفسر للفظة المجملة التي تقدم ذكرنا لها-

باب: -

حدیث 5444–5444

ذكر الإخبار عن موضع الإزار للمرء المسلم-

باب: - اس باب میں ذکر ہے کہ مسلمان کے لیے ازار کہاں تک ہونا چاہیے۔

حدیث 5445–5446

ذكر البيان بأن لابس الإزار من أسفل من الكعبين يخاف عليه النار نعوذ بالله منها-

باب: - اس باب میں بیان ہے کہ جو شخص ٹخنوں سے نیچے ازار پہنتا ہے، اسے آگ کا خطرہ ہے (نعوذ بالله من ذلك)۔

حدیث 5447–5447

ذكر وصف الموضع الذي يجب أن يكون مبلغ إزار المرء من بدنه-

باب: - اس باب میں ذکر ہے کہ تہبند جسم کے کس مقام تک ہونا چاہیے۔

حدیث 5448–5448

ذكر خبر قد يوهم غير المتبحر في صناعة العلم أن خبر زيد بن أبي أنيسة وهم-

باب: - اس باب میں ذکر ہے کہ بعض ناپختہ علماء نے زید بن ابی انیسہ کی حدیث میں وہم کیا۔

حدیث 5449–5450

ذكر الزجر عن أن تسبل المرأة إزارها أكثر من ذراع-

باب: - اس باب میں ذکر ہے کہ عورت کو اپنا ازار ایک ہاتھ (ذراع) سے زیادہ نیچے لٹکانے سے روکا گیا ہے۔

حدیث 5451–5451

ذكر الإباحة للمرء أن يكون مطلق الإزار في الأحوال-

باب: - اس باب میں ذکر ہے کہ مرد کے لیے عام حالات میں ازار کھلا رکھنے کی اجازت ہے۔

حدیث 5452–5452

ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه-

باب: - اس باب میں دوسری حدیث بیان ہے جو پہلے مفہوم کی تصدیق کرتی ہے۔

حدیث 5453–5454

ذكر الأمر لمن أراد الانتعال أن يبدأ باليمنى وعند النزع بالشمال-

باب: - اس باب میں ذکر ہے کہ جوتا پہنتے وقت دائیں پاؤں سے شروع کرے اور اتارتے وقت بائیں سے۔

حدیث 5455–5455

ذكر استحباب التيامن للإنسان في أسبابه اقتداء بالمصطفى صلى الله عليه وسلم-

باب: - اس باب میں ذکر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق انسان کو ہر کام میں دائیں جانب سے ابتدا پسند ہے۔

حدیث 5456–5456

ذكر الأمر بدوام الانتعال للمرء وترك الحفاء-

باب: - اس باب میں ذکر ہے کہ ننگے پاؤں رہنے کے بجائے جوتے پہنے رہنا بہتر ہے۔

حدیث 5457–5457

ذكر البيان بأن هذا الأمر إنما أمر به في المغازي وحاجة الناس إليها-

باب: - اس باب میں بیان ہے کہ یہ حکم خاص طور پر جنگوں یا ضرورت کے وقت دیا گیا۔

حدیث 5458–5458

ذكر الزجر عن قصد المرء المشي في الخف الواحد-

باب: - اس باب میں ذکر ہے کہ ایک جوتے کے ساتھ چلنے سے منع کیا گیا ہے۔

حدیث 5459–5459

ذكر الزجر عن مشي المرء في النعل الواحدة إذا انقطع شسعه أو عامدا له-

باب: - اس باب میں ذکر ہے کہ اگر کسی کا جوتا ٹوٹ جائے تو صرف ایک پہنے رہنے سے اجتناب کرے۔

حدیث 5460–5461

اس باب کی تمام احادیث