کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج و عمرہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حج میں متمتع نہ تھے
حدیث نمبر: 3941
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ لأَرْبَعِ لَيَالٍ خَلَوْنَ ، أَوْ خَمْسٍ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فِي حَجَّتِهِ ، وَهُوَ غَضْبَانُ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ أَغْضَبَكَ أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ ؟ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا شَعَرْتِ أَنِّي أَمَرْتُهُمْ بِأَمْرٍ وَهُمْ يَتَرَدَّدُونَ فِيهِ ، وَلَوْ كُنْتُ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ ، وَلا اشْتَرَيْتَهُ حَتَّى أَحِلُّ كَمَا حَلُّوا " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَلَوْ كُنْتُ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ حَتَّى أَحِلَّ " أَبْيَنُ الْبَيَانِ بِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ مُتَمَتِّعًا فِي حَجَّتِهِ ، إِذْ لَوْ كَانَ مُتَمَتِّعًا لأَحَلَّ كَمَا أَحَلُّوا ، وَلَمْ يَتَلَهَّفْ عَلَى مَا فَاتَهُ مِنْ ذَلِكَ حَيْثُ سَاقَ الْهَدْيَ ، وَأَمَّا الأَخْبَارُ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا قَبْلَ في التَّمَتُّعِ ، فَإِنَّهَا مِمَّا نَقُولُ فِي كُتُبِنَا : إِنَّ الْعَرَبَ تُنْسَبُ الْفِعْلَ إِلَى الأَمْرِ ، كَمَا تَنْسِبَهُ إِلَى الْفَاعِلِ ، فَلَمَّا أَذِنَ لَهُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّمَتُّعِ ، وَقَالَ : " مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَلَمْ يَكُنْ قَدْ سَاقَ الْهَدْيَ فَلْيَحِلَّ " ، كَانَ فِيهِ إِبَاحَةُ التَّمَتُّعِ لِمَنْ شَاءَ ، فَنُسِبَ هَذَا الْفِعْلُ إِلَى الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَبِيلِ الأَمْرِ بِهِ ، لا أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مُتَمَتِّعًا ، وَلِذَلِكَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِلصُّبَيِّ ابْنِ مَعْبَدٍ ، حَيْثُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ، فَقَالَ : هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔ ذوالحج کی چار تاریخ یا پانچ تاریخ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے یہ آپ کے حج کے موقع کی بات ہے۔ آپ غصے کے عالم میں تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! جو شخص آپ کو غصہ دلائے۔ اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں داخل کرے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں پتہ نہیں چلا۔ میں نے ان لوگوں کو ایک بات کا حکم دیا اور وہ لوگ اس بارے میں تردد کا شکار ہو رہے ہیں مجھے بعد میں جس چیز کا خیال آیا، اگر پہلے آ جاتا، تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا، میں اسے خریدتا بھی نہیں، یہاں تک کہ میں بھی اب اسی طرح احرام کھول دیتا جس طرح ان لوگوں نے کھولنا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ” مجھے بعد میں جس چیز کا خیال آیا اگر پہلے آ جاتا تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لے آتا اور احرام کھول دیتا۔ “ اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس حج میں حج تمتع نہیں کیا تھا کیونکہ اگر آپ نے حج تمتع کیا ہوتا تو آپ بھی اسی طرح احرام کھول دیتے جس طرح دیگر لوگوں نے کھول دیا تھا اور آپ اس چیز کے رہ جانے کا اظہار نہ کرتے جو آپ کے قربانی کا جانور ساتھ لے جانے کی وجہ سے رہ گئی تھی۔ جہاں تک ان روایات کا تعلق ہے، جنہیں ہم اس سے پہلے تمتع کے بارے میں ذکر کر چکے ہیں تو ہم اپنی کتابوں میں یہ بات بیان کر چکے ہیں عرب بعض اوقات کسی فعل کی نسبت حکم دینے والے کی طرف کر دیتے ہیں۔ جس طرح وہ فعل کی نسبت کرنے والے کی طرف کرتے ہیں تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حج تمتع کرنے کی اجازت دی تو آپ نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے عمرے کا تلبیہ پڑھا ہے اور وہ قربانی کا جانور ساتھ نہیں لایا وہ احرام کھول دے تو اس میں اس شخص کے لیے حج تمتع کو مباح قرار دیا گیا، جو ایسا کرنا چاہتا ہے، تو اس فعل کی نسبت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس اعتبار سے کی کیونکہ آپ نے اس کا حکم دیا ہے اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حج تمتع کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے صبی بن معبد سے یہ کہا: تھا جب انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ بتایا تھا کہ اس نے حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا: تمہاری رہنمائی تمہارے نبی کی سنت کی طرف کی گئی ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحج / حدیث: 3941
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «حجة النبي» (ص 60 - 61). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
حدیث تخریج «رقم طبعة با وزير 3930»