کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: جمرة عقبہ کو کنکریاں مارنے کا بیان - اس بات کا بیان کہ جمرات کی رمی ابراہیم خلیل صلی اللہ علیہ وسلم کے آثار میں سے ہے
حدیث نمبر: 3868
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مِنًى ، فَأَقَامَ بِهَا أَيَّامَ التَّشْرِيقِ الثَّلاثَ ، يَرْمِي الْجِمَارَ حَتَّى تَزَولَ الشَّمْسُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ كُلَّ جَمْرَةٍ ، وَيُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ تَكْبِيرَةً يَقِفُ عِنْدَ الأُولَى ، وَعِنْدَ الْوُسْطَى بِبَطْنِ الْوَادِي ، فَيُطِيلُ الْمَقَامَ ، وَيَنْصَرِفُ إِذَا رَمَى الْكُبْرَى ، وَلا يَقِفُ عِنْدَهَا ، وَكَانَتِ الْجِمَارُ مِنْ آثَارِ إِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز ادا کرنے کے بعد روانہ ہوئے۔ آپ منیٰ واپس تشریف لے آئے آپ نے ایام تشریق وہاں گزارے وہاں آپ جمرات کو کنکریاں مارتے، یہاں تک کہ سورج ڈھل جاتا آپ ہر جمرہ کو سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے ہمراہ تکبیر کہتے تھے۔ آپ پہلے اور دوسرے جمرہ کے قریب وادی کے نشیبی حصے میں ٹھہرتے تھے اور طویل قیام کرتے تھے اور جب بڑے جمرہ کو کنکریاں مار لیتے، تو آپ واپس جاتے تھے اس کے پاس ٹھہرتے نہیں تھے یہ جمرات سیدنا ابراہیم علیہ السلام (کے واقعہ) کی نشانیاں ہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحج / حدیث: 3868
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح إلا قوله: حين صلى الظهر؛ فإنه منكر - «صحيح أبي داود» (1722)، «الإرواء» (1082)، وقوله: «وكانت الجمار»: مدرج. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
حدیث تخریج «رقم طبعة با وزير 3857»