کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: کفارہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ رمضان میں جان بوجھ کر اپنی اہلیہ سے جماع کرنے والے پر کفارہ لازم ہے
حدیث نمبر: 3528
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحِيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَنَّهُ احْتَرَقَ ، فَسَأَلَهُ عَنْ أَمْرِهِ ، فَذَكَرَ أَنَّهُ وَقَعَ عَلَى امْرَأَتِهِ فِي رَمَضَانَ ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِكْتَلٍ يُدْعَى الْعَرَقُ ، فِيهِ تَمْرٌ ، فَقَالَ : " أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ ؟ " ، فَقَامَ الرَّجُلُ ، فَقَالَ : " تَصَدَّقْ بِهَذَا " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے یہ ذکر کیا کہ وہ جل گیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اس کے معاملے کے بارے میں دریافت کیا: تو اس نے یہ بات ذکر کی کہ اس نے رمضان میں (روزے کے دوران) اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کر لی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک پیمانہ لایا گیا جسے عرق کہا: جاتا تھا۔ اس میں کھجوریں تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: جلنے والا شخص کہاں ہے؟ وہ صاحب کھڑے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اسے صدقہ کر دو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصوم / حدیث: 3528
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2074). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
حدیث تخریج «رقم طبعة با وزير 3520»