کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مردار کے چمڑے کے احکام کا بیان - اس بات کا ذکر کہ مردار کی کھالوں سے مطلق نفع اٹھانا جائز ہے
حدیث نمبر: 1280
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَاتَتْ شَاةٌ لَزَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُ ، فَقَالَ : " أَلا انْتَفَعْتُمْ بِمَسْكِهَا " ؟ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَسْكُ مَيْتَةٍ ؟ ! ، قَالَ : فَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً سورة الأنعام آية 145 إِلَى آخِرِ الآيَةِ إِنَّكُمْ لَسْتُمْ تَأْكُلُونَهُ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَبَعَثَتْ إِلَيْهَا ، فَسُلِخَتْ ، فَجَعَلَتْ مِنْ مَسْكِهَا قِرْبَةً ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَرَأَيْتُهَا بَعْدَ سَنَةٍ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ محترمہ کی بکری مر گئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کے ہاں تشریف لائے انہوں نے آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کی کھال سے نفع حاصل کیوں نہیں کرتے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا مردار کی کھال سے راوی بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی۔ ” تم یہ فرما دو جو چیز میری طرف کی گئی ہے اس میں کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جو کھانے والے کے لئے حرام ہو ماسوائے اس کے کہ وہ مردار ہو ۔“ یہ آیت آخر تک تلاوت کی (پھر آپ نے ارشاد فرمایا:) لوگ اسے کھا نہیں رہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: پھر اس خاتون نے اس کی کھال کو بھجوایا اس کی دباغت کی گئی اور اس کی کھال سے مشکیزہ بنا لیا گیا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے ایک سال کے بعد بھی وہ مشکیزہ دیکھا تھا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1280
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «غاية المرام» (29). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات إلا أن رواية سماك عن عكرمة فيها اضطراب.
حدیث تخریج «رقم طبعة با وزير 1277»