کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: جنابت (جنبی ہونے) کے احکام کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ جنب اگر غسل سے پہلے سونا چاہے تو کیا کرے
حدیث نمبر: 1212
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، وَالْحَوْضِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : إِنَّ عُمَرَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : تُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ مِنَ اللَّيْلِ ، فَكَيْفَ أَصْنَعُ ؟ قَالَ : " اغْسِلْ ذَكَرَكَ ، ثُمَّ تَوَضَّأْ ، ثُمَّ ارْقُدْ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی: (بعض اوقات) مجھے رات کے وقت جنابت لاحق ہو جاتی ہے، تو میں کیا کروں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی شرم گاہ کو دھو کر پھر وضو کر کے سو جاؤ۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1212
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (218): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، أبو الوليد: هو هشام بن عبد الملك الطيالسي، والحوضي: هو محفص بن عمر بن الحارث.
حدیث تخریج «رقم طبعة با وزير 1209»
حدیث نمبر: 1213
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : ذَكَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ مِنَ اللَّيْلِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ ، ثُمَّ نَمْ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَوَضَّأْ ، وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ أَمْرَ نَدْبٍ ، وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ثُمَّ نَمْ ، أَمَرُ إِبَاحَةٍ ، وَلَيْسَ فِي قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْمَنِيَّ نَجِسٌ ، لأَنَّ الأَمْرَ بِغَسْلِ الذِّكْرِ إِنَّمَا أَمْرٌ لأَنَّ الْمَرْءَ قَلَمْا يَطَأُ إِلا وَيُلاقِي ذَكَرُهُ شَيْئًا نَجِسًا ، فَإِنْ تَعَرَّى عَنْ هَذَا ، فَلا يَكَادُ يَخْلُو مِنَ الْبَوْلِ قَبْلَ الاغْتِسَالِ ، فَمِنْ أَجْلِ مُلاقَاةِ النَّجَاسَةِ لِلذَّكَرِ أَمَرَ بِغَسْلِهِ ، لا أَنَّ الْمَنِيَّ نَجِسٌ ، لأَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ تَفْرُكُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ يُصَلِّي فِيهِ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا کہ بعض اوقات انہیں رات کے وقت جنابت لاحق ہو جاتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم وضو کرو شرم گاہ کو دھو لو اور پھر سو جاؤ۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان “ تم وضو کر لو اور اپنی شرمگاہ کو دھو لو ۔“ یہ حکم استحباب کے طور پر ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ” پھر تم سو جاؤ “ یہ مباح قرار دینے کیلئے حکم ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان: ” تم اپنی شرمگاہ کو دھو لو “ میں اس بات کی دلیل موجود نہیں ہے کہ منی نجس ہوتی ہے کیونکہ شرمگاہ کو دھونے کا حکم اس لیے دیا گیا تھا کہ آدمی جب صحبت کرتا ہے، تو اس کی شرمگاہ پر کوئی نجس چیز لگ جاتی ہے اگر یہ نہ بھی ہو تو غسل کرنے سے پہلے عام طور پر آدمی کو پیشاب کرنا پڑتا ہے، تو اس نجاست کے لگنے کی وجہ سے بھی شرمگاہ کو دھونے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس وجہ سے نہیں دیا گیا، کہ منی نجس ہوتی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے اسے کھرچ دیا کرتی تھیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کپڑے میں نماز ادا کر لیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1213
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، القعنبي: هو عبد الله بن مسلمة القعنبي الحارثي، ثقة عابد، أخرج حديثه الشيخان، وكان ابن معين وابن المديني لا يقدمان عليه في «الموطأ» أحداً.
حدیث تخریج «رقم طبعة با وزير 1210»