کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - تیسری خبر کا ذکر جو علم کے اصل مآخذ سے نہ سیکھنے والے کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ ہمارے پہلے ذکر کردہ دو خبروں کے مخالف ہے
حدیث نمبر: 1106
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَمَرَهُ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ الرَّجُلِ إِذَا دَنَا مِنْ أَهْلِهِ فَخَرَجَ مِنْهُ الْمَذْيُ مَاذَا عَلَيْهِ ؟ فَإِنْ عِنْدِي ابْنَتَهُ وَأَنَا أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَهُ ، قَالَ الْمِقْدَادُ : فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ ، فَلْيَنْضَحْ فَرْجَهُ ، وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلاةِ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَحِمَهُ اللَّهُ : قَدْ يَتَوَهَّمُ بَعْضُ الْمُسْتَمِعِينَ لِهَذِهِ الأَخْبَارِ مِمَّنْ لَمْ يَطْلُبِ الْعِلْمَ مِنْ مَظَانِّهِ ، وَلا دَارَ فِي الْحَقِيقَةِ عَلَى أَطْرَافِهِ ، أَنْ بَيْنَهَا تَضَادًّا أَوْ تَهَاتُرًا ، لأَنَّ فِي خَبَرِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ : سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَفِي خَبَرِ إِيَاسِ بْنِ خَلِيفَةَ ، أَنَّهُ أَمَرَ عَمَّارًا أَنْ يَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَفِي خَبَرِ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ أَمَرَ الْمِقْدَادَ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَلَيْسَ بَيْنَهَا تَهَاتُرٌ ، لأَنَّهُ يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَمَرَ عَمَّارًا أَنْ يَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهُ ، ثُمَّ أَمَرَ الْمِقْدَادَ أَنْ يَسْأَلَهُ ، فَسَأَلَهُ ، ثُمَّ سَأَلَ بِنَفْسِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالدَّلِيلُ عَلَى صِحَّةِ مَا ذَكَرْتُ أَنْ مَتْنَ كُلِّ خَبَرٍ يُخَالِفُ مَتْنَ الْخَبَرِ الآخَرِ ، لأَنَّ فِي خَبَرِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ : كُنْتُ رَجُلا مَذَّاءً ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِذَا رَأَيْتَ الْمَاءَ ، فَاغْتَسِلْ " . وَفِي خَبَرِ إِيَاسِ بْنِ خَلِيفَةَ : أَنَّهُ أَمَرَ عَمَّارًا أَنْ يَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَغْسِلُ مَذَاكِيرَهُ وَيَتَوَضَّأُ " ، وَلَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الْمَنِيِّ الَّذِي فِي خَبَرِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ . وَخَبَرُ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ سُؤَالٌ مُسْتَأْنَفٌ ، فَيَسْأَلُ أَنَّهُ لَيْسَ بِالسُّؤَالَيْنِ الأَوَّلَيْنِ اللَّذَيْنِ ذَكَرْنَاهُمَا ، لأَنَّ فِي خَبَرِ الْمِقْدَادِ : أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَمَرَهُ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ إِذَا دَنَا مِنْ أَهْلِهِ فَخَرَجَ مِنْهُ الْمَذْيُ مَاذَا عَلَيْهِ ؟ فَإِنْ عِنْدِي ابْنَتَهُ . فَذَلِكَ مَا وَصَفْنَا ، عَلَى أَنَّ هَذِهِ أَسْئِلَةٌ مُتَبَايِنَةٌ ، فِي مَوَاضِعَ مُخْتَلِفَةٍ ، لِعِلَلٍ مَوْجُودَةٍ ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ بَيْنَهَا تَضَادُّ أَوْ تَهَاتُرٌ .
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کریں جو اپنی بیوی کے قریب ہوتا ہے، تو اس کی مذی خارج ہو جاتی ہے۔ ایسے شخص پر کیا چیز لازم ہو گی (سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وضاحت کی) کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحب زادی میری اہلیہ ہے۔ اس لئے مجھے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔ سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: جب کوئی شخص اس طرح کی صورت حال کا سامنا کرے تو اسے اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑک لینا چاہئے اور نماز کے وضو کی طرح وضو کر لینا چاہئے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ان روایات کو سننے والے بعض ایسے افراد جنہوں نے علم حدیث کو اس کے اصل ماخذ سے حاصل نہیں کیا اور حقیقت کو اس کے اپنے دائرے میں نہیں گھمایا۔ وہ اس غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں، ان روایات کے درمیان تضاد اور اختلاف پایا جاتا ہے، کیونکہ ابوعبدالرحمن سلمی کی نقل کردہ روایت میں یہ ہے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا جبکہ ایاس بن خلیفہ کی نقل کردہ روایت میں ہے، انہوں نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو ہدایت کی تھی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کریں جبکہ سلیمان بن یسار کی نقل کردہ روایت میں ہے، انہوں نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو ہدایت کی تھی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کریں۔ حالانکہ ان روایات کے درمیان کوئی اختلاف میں ہے، کیونکہ اس بات کا احتمال موجود ہے، پہلے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمار کو یہ حکم دیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کریں۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا۔ پھر آپ نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا ہو کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کریں، تو انہوں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا ہو۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بذات خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا ہو۔ میں نے جو چیز ذکر کی ہے اس کے صحیح ہونے کی دلیل یہ ہے، ان میں سے ہر روایت کا متن دوسری روایت کے متن سے مختلف ہے۔ ‘ کیونکہ ابوعبدالرحمن سلمی کی نقل کردہ روایت میں یہ الفاظ ہیں: ” میں ایک ایسا شخص تھا ‘ جس کی مذی بکثرت خارج ہوتی تھی۔ پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم جب پانی کو دیکھو تو غسل کرو ۔“ ایاس بن خلیفہ کی روایت میں الفاظ ہیں۔ ” سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمار کو یہ حکم دیا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کریں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص اپنی شرمگاہ کو دھو کر وضو کر لے۔ اس روایت میں منی کا تذکرہ نہیں ہے، جو ابوعبدالرحمن کی نقل کردہ روایت میں ہے، جبکہ سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ بن اسود کی نقل کردہ روایت میں مذکور ہے، انہوں نے پہلے سوال کیا تھا، تو یہ پہلے والے دو سوالات نہیں ہیں جو ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں، سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کی روایت میں یہ ہے کہ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ حکم دیا تھا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کریں جو اپنی بیوی کے قریب ہوتا ہے، تو اس کی منی خارج ہوتی ہے، تو ایسے شخص پر کیا بات لازم ہو گی کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی میری اہلیہ ہے۔ میں (اس لئے براہ راست آپ سے یہ سوال نہیں کر سکتا) تو ہم نے جو چیز ذکر کی ہے وہ اس بات پر دلالت کرتی ہے، یہ مختلف سوالات ہیں جو مختلف مواقعوں پر کئے گئے جن کی اپنی مخصوص علتیں ہیں۔ ان کے درمیان کوئی تضاد اور اختلاف نہیں ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1106
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (202). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات إلا أنه منقطع.
حدیث تخریج «رقم طبعة با وزير 1103»