کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: عشاء کے بعد کی سنتوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1303
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ الْعُكْلِيُّ ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، حَدَّثَنِي مُقَاتِلُ بْنُ بَشِيرٍ الْعِجْلِيُّ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ،عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَ : سَأَلْتُهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : " مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ قَطُّ فَدَخَلَ عَلَيَّ إِلَّا صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ أَوْ سِتَّ رَكَعَاتٍ ، وَلَقَدْ مُطِرْنَا مَرَّةً بِاللَّيْلِ فَطَرَحْنَا لَهُ نِطَعًا فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى ثُقْبٍ فِيهِ يَنْبُعُ الْمَاءُ مِنْهُ ، وَمَا رَأَيْتُهُ مُتَّقِيًا الْأَرْضَ بِشَيْءٍ مِنْ ثِيَابِهِ قَطُّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ` میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء پڑھنے کے بعد جب بھی میرے پاس آئے تو آپ نے چار رکعتیں یا چھ رکعتیں پڑھیں ، ایک بار رات کو بارش ہوئی تو ہم نے آپ کے لیے ایک چمڑا بچھا دیا ، گویا میں اس میں ( اب بھی ) وہ سوراخ دیکھ رہی ہوں جس سے پانی نکل کر اوپر آ رہا تھا لیکن میں نے آپ کو مٹی سے اپنے کپڑے بچاتے بالکل نہیں دیکھا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب التطوع / حدیث: 1303
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, مقاتل بن بشير مستور،وثقه ابن حبان وحده،وقال الذھبي : لا يعرف(ميزان الإعتدال 4/ 171), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 54,
تخریج حدیث « تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: 16143)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/58) (ضعیف) » (اس کے راوی مقاتل لین الحدیث ہیں)